سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 198 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 198

۱۹۸ لیکچر اور اور باتوں کے متعلق تفصیلی مشورہ اور پر وگرام تیار کیا جائے گا۔اس کا خیال ہے کہ گورنمنٹ انگلشیہ پٹھانوں سے صلح رکھنا چاہتی ہے کیونکہ روس کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح سے وہ افغانستان کو اپنے ساتھ شامل کر کے آگے بڑھے۔اس وجہ سے انگریز تو شائد معاملہ ھذا میں کھلم کھلا افغانستان کی مخالفت نہ کر سکے۔لہذا بہتر ہے کہ یہاں ایسے رنگ میں کام کیا جاوے جس میں پروٹسٹ نہ پایا جاوے بلکہ محض ایک صداقت کے لئے قربانی اور شہید کی جانبازی اور بہادری کا ذکر کیا جاوے۔البتہ پرائیویٹ خطوط میں ضرور اس کا پرو پیگنڈا کیا جاوے۔اور امریکہ چونکہ آزاد ہے وہاں کام کیا جاوے۔اس ملک کے اخبارات اگر اس بات کو اُٹھا ئیں گے تو انگریز بھی مجبور ہوں گے کہ اس سے متاثر ہو کر کچھ کر نے کو آگے بڑھیں۔بہر حال وہ آج شام کو انشاء اللہ تعالیٰ پھر آوے گا اور معاملہ طے ہو گا۔کابل میں سات سال رہ کر ایک انگریز نے جو کتاب لکھی ہے وہ کتاب آج حضور نے منگائی ہے اور اس کے حوالہ جات سے ایک مضمون شائع کرانے کے واسطے نیر صاحب کو ابھی ابھی بھیجا ہے کہ وہ دیکھیں کہ لنڈن کے اخبارات میں جو خبر شائع ہوئی ہے میں اس کی تفصیل بتانا چاہتا ہوں کہ پتھر سے موت کے کیا معنے ہیں اور کابل میں وہ کس طرح سے ہوتی ہے۔اس کو اس انگریز کی کتاب سے لکھ کر پھر کچھ اپنا مطلب بھی لکھ دیا جاوے وغیرہ وغیرہ۔میاں عبد الرحیم خان صاحب کی طرف سے دعوت : 4 ستمبر کو نواب عبدالرحیم خان صاحب نے ۴ بجے دس بزرگوں کی ایک بڑے ہوٹل میں چائے کی دعوت کی جہاں حضور جانے والے ہیں۔ایک مزدوری پیشہ انگریز نو مسلم بھی آیا ہوا ہے۔اس سے باتیں ہورہی ہیں۔بہت ہوشیار آدمی ہے۔حضور رات بھی الگ اس کو اپنے کمرہ میں لے جا کر باتیں کرتے رہے۔مذہبی کا نفرنس کا پروگرام شائع ہو چکا ہے۔حضرت اقدس کا مضمون ۲۳ /ستمبر کو۳ بجے کے بعد شروع ہوگا انشاء اللہ تعالی۔پروگرام کی ایک کاپی ارسال کرتا ہوں۔اس مضمون کے بالا رہنے کی بھی دعائیں کی جائیں کیونکہ یہ بھی کامیابی اور اشاعت کا ایک راہ ہے۔