سفر یورپ 1924ء — Page 170
16+ موجود ہے کہ لا غالب الا اللہ اور چاند اور ستارے کا نشان بھی متعدد مقامات پر نمایاں موجود ہے جو مصلحت الہی نے نہ معلوم کس مقصد کے لئے لکھوایا اور قائم رکھا ہے۔ساحل سمندر کی سیر : اس شاندار اور خوبصورت عمارت کو دیکھنے کے بعد حضور موٹر میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے تشریف لے گئے اور دوسرے تمام خدام پیدل پہنچے جہاں ہزاروں مرد ، عورت، بچے ، جوان اور بوڑھے سمندر کے کنارے بیٹھے سیر کر رہے تھے۔کنارے کو صاف رکھنے کے لئے چھوٹے چھوٹے پتھر لاکھوں من وہاں بکھیرے گئے ہیں۔جن پر چلنا ایک شور بپا کر دیتا ہے۔گول گول پتھر اخروٹ کے برابر کے ریت کی جگہ بچھائے ہوئے ہیں۔چلنے میں پاؤں ٹخنوں تک اندر گھس جاتا ہے اور پتھروں کی آواز سے ایک شور اٹھتا ہے۔سمندر کی موجوں میں عموماً بچے کھیلتے اور نہاتے نظر آتے تھے۔کوئی کوئی عورت بھی تھی۔بعض نوجوان بھی متوسط عمر کے لوگ کنارے پر بیٹھے ہوئے مطالعہ یا سیر میں مصروف تھے۔ہمارے ہاں کے ہند و تیرتھ ہر دوار کے میلہ کا سارنگ نظر آتا تھا اور بڑی چہل پہل تھی۔سمندر کے اندر نصف میل کے قریب لمبا ایک پلیٹ فارم لکڑی کا بنا کر اس میں مختلف اقسام کے کھیل تماشے بنائے گئے ہیں کہیں با جا بجتا ہے تو کہیں جو آ کھیلا جاتا ہے کہیں ورزش اور زور آزمائی کے کرتب دکھائے جاتے ہیں تو کہیں تھیڑ اور سینما کہیں انگریز عورتوں کے ناچ اور گیت ہیں تو کہیں کشتی و مکہ بازی اور ہنسی تمسخر کے اکھاڑے غرض ہر قسم کے سامان موجود تھے جن میں ہزاروں ہی آدمی جمع تھے۔ٹکٹ فی کس ۳ آنہ دینا پڑتا ہے۔حضور نے یہ مقام بالکل نہ دیکھا اور کسی دوسرے قدرتی منظر کی طرف تشریف لے گئے۔گاڑی برائیٹین سے ۵ بج کر ۵ منٹ پر روانہ ہوئی مگر حضور واپس نہ آسکے اس وجہ سے ہم لوگ سٹیشن پر ہی رہے۔تھوڑی دیر بعد حضور تشریف لے آئے اور اس طرح ہم لوگ حضور کے ہمرکاب ۵ بج کر ۳۵ منٹ کی گاڑی پر واپس برائیٹین سے لنڈن روانہ ہوئے۔برائیٹن کی کیفیت : برائین کی آبادی ایک لاکھ بتائی جاتی ہے۔شہر نہایت خوبصورت اور مصفا و با قاعدہ بنا ہوا ہے۔نشیب و فراز میں عمارات کی قطاریں بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتی ہیں اور