سفر یورپ 1924ء — Page 163
۱۶۳ کلاس تھے۔راستہ میں ایک جگہ پہنچ کر پھر سب سیکنڈ میں چلے گئے اور لنڈن تک سیکنڈ ہی میں گئے کچھ پونڈ اور اضافہ راستہ میں ادا کرنا پڑا۔روما سے پیرس اور پیرس سے کیلیے (Calley) تک کا راستہ جیسا سرسبز اور شاداب تھا اس کی تفصیل مجھ سے ممکن نہیں۔پہاڑی پیچدار راستوں سے تیز رفتار گاڑی گزرتی ہوئی ہمیں بعض برفانی پہاڑوں میں سے لے کر گزرتی گئی۔بیسیوں سرنگ۔لاکھوں مکانات۔سینکڑوں بڑے بڑے شہر راستہ میں آئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم لوگ ایک وسیع شہر کے درمیان سے گزرتے جار ہے ہیں اور کوئی فاصلہ درمیان میں غیر آباد نہ نظر آتا تھا۔سرنگ تو راستہ میں کثرت سے آئے مگر اٹلی اور فرانس کی حد پر ایک بہت بڑی سرنگ آئی جس کا طول ۱ امیل کا تھا اور بہت بڑے بلند پہاڑ کے نیچے سے بنائی گئی تھی۔نصف اٹلی کا اور نصف فرانس کا وہ پہاڑ ہے۔صبح کو 9 بجے کے قریب پیرس پہنچ کر گاڑی بدلی گئی اور پیرس کی گاڑی سے ڈیڑھ بجے کیلیے پہنچ کر رود بار انگلستان پار کرنے کے لئے جہاز پر سوار ہوئے جس نے ایک گھنٹہ میں رود بار انگلستان کو عبور کیا۔سمندر جوش میں تھا جس کی وجہ سے دوستوں اور مسافروں کو سی سک نس (Sea Sikness) کی تکلیف ہوئی۔ڈوور (Dover) پہنچ کر پھر گاڑی لی جو چار بجے روانہ ہو کر سوا چھ بجے لنڈن پہنچی۔جماعت کے دوست اور اکثر حصہ پریس کے نمائندوں کا جوس بج کر ۲۰ منٹ کی گاڑی کے لئے اسٹیشن پر موجود تھا ( جیسا کہ ان کو تار کے ذریعہ اطلاع دی گئی تھی کلک کی غلط اطلاع کی بنا پر ) سارے کا سارا نا اُمید ہو کر واپس جاچکا تھا۔- لنڈن کے دوست بتاتے ہیں کہ اتنا بڑا مجمع جو کسی بڑے سے بڑے آدمی کے واسطے جمع ہو سکتا ہے جمع تھا مگر افسوس کہ غلط اطلاع کی وجہ سے تمام واپس گیا جس کا افسوس جماعت لنڈن کو سخت تھا۔ہمارے چند دوست سٹیشن پر موجود تھے اتفاقاً اس گاڑی سے انہوں نے ہمیں دیکھا اور جمع ہو گئے والا ان کو اُمیدا بھی نہ تھی۔ان کو خیال تھا کہ سوا سات بجے حضور تشریف لاویں گے۔سٹیشن سے اُتر کر حضور نے دعا کی جس کا فوٹو کسی نے لے لیا۔( میں اور رحمد بن سامان