سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 135 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 135

۱۳۵ حضرت اقدس نے دوران سیر میں لوگوں کے اشارات ، انگشت نمائی اور دیکھ دیکھ کر ہنسی اور استعجاب کو محسوس کر کے فرمایا کہ ہم لوگ ایک جماعت ہیں اور موٹر میں سوار ہیں واقع میں اگر کوئی اکیلا آدمی ہو تو اس کے لئے تو بہت ہی مشکل اور تکلیف کا باعث ہو۔لوگ جو یورپ میں پہنچتے ہی اپنی ہیئت اور پوزیشن تبدیل کر لیتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی لوگوں کی انگشت نمائی اور استعجاب یا مذاق ہو گا جس کو لوگ نا قابل برداشت سمجھ کر جھک جاتے ہیں۔میاں رحمدین نے جو برنڈ زی کی عورتوں کے سلوک کو دیکھ کر رائے دی تھی کہ فورا کوٹ پتلون اور ہیٹ پہن لینا چاہیئے پھر کوئی دیکھے گا بھی نہیں وہ بالکل سچی اور فطری بات معلوم ہوتی ہے۔ان ممالک میں اخراجات بہت زیادہ ہیں۔کوئی بجٹ یہاں کام نہیں آ سکتا۔اندازے غلط ہو جاتے ہیں اور حساب کتاب ٹھیک نہیں رہتا۔ایک سٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی ہمیں پانی کی ضرورت تھی۔ایک اچھا بھلا آدمی محبت سے ہمیں دیکھتا تھا ہم نے اس کو پو چھا پانی کہاں ملے گا (صرف ایکوا یا آٹو ا کہا ) اس نے برتن مانگا ، لوٹا دیا گیا۔وہ پانی لایا تو سہی پانی دے کر مزدوری کے اشارات کر نے لگا اور آخر اڑھائی پیسہ لے کر گیا۔قلی کی مزدوری معمولی گھڑی یا بکس کی ۵ آنے ہے۔ایک چھکڑ ا سامان کے واسطے سٹیشن سے دس منٹ کے راستہ پر سامان پہنچانے کو لیا تھا جس کے بمشکل ۲۵ لیرے مقرر ہوئے مگر ہمیں اس ہوٹل میں جگہ نہ ملی دوسرے میں لے گئے۔بمشکل آدھ یا پون گھنٹہ خرچ ہوا ہو گا لہذا ۲۵ کی بجائے ۴۰ لیرے کا بل بن گیا یعنی ۶ روپے ۴ آنے۔چوہدری علی محمد صاحب نے برنڈ زی کی ہوٹل خادمہ کو چائے کا آرڈر کیا۔۲ پیالی چائے ۲ ٹوسٹ اور ۲ تولہ مکھن ایک روپیہ ۴ آ نے خرچ ہو گئے۔ہمارے ہوٹل روما کے ٹرمینل (Terminal) میں ابھی چوہدری علی محمد صاحب نے ہاتھ (Bath) کا آرڈر کیا۔خادمہ باتھ کو تیار کر کے آئی اور ۸ لیرے۴ عص کاربل رکھ دیا۔چوہدری صاحب نے چاہا کہ کسی طرح سے یہ پیالہ مل جائے۔عذر معذرت کی مگر وہ ہاتھ تیار کر چکی تھی ( صرف کچھ ٹھنڈا اور کچھ گرم پانی ایک کمرے میں رکھ کر دو تو لیے رکھ دیئے ) لہذا وہ پل اب واجب ہو گیا تھا وہ نہاتے یا نہ نہاتے۔ایک گائیڈ جو لٹک کی معرفت لیا جائے دن بھر موٹر گاڑی میں ساتھ ساتھ رہے گا اور شام کو اس کا بل سو لیرے کا ہو گا جس کے معنی ہیں کہ پندرہ ساڑھے پندرہ روپے اس کا حق ہو گیا۔حضور نے ہمارے قابو سے باہر ہوتے اخراجات کو دیکھ کر حکم دیا ہے کہ ممکن