سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 3 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 3

اثر دہام تھا جس کی وجہ سے لاری سے اُتر کر پلیٹ فارم تک جانا محال ہو گیا۔آخر بڑی جد و جہد اور چیخ و پکار کے بعد حضور کو بمشکل پلیٹ فارم پر پہنچنے کے لئے راستہ بنایا گیا۔الحمد للہ اور اللہ اکبر کے نعروں سے پلیٹ فارم گونج اٹھا۔گاڑی کا کوئی مسافر نہ تھا جو اس نظارہ کو دیکھنے میں مصروف نہ تھا۔سٹیشن کا تمام سٹاف قلی سے لے کر اعلیٰ افسروں تک ٹرین کے مسافر اور افسر غرض ہر قسم کے لوگ کیا عورت کیا مرد اس دلکش سین کو دیکھنے لگے۔گاڑی کی روانگی کا وقت ہو چکا تھا مگر توجہ دوسری طرف کھنچ چکی تھی لہذا گاڑی لگ جانے کے بعد آرام سے دوست سوار ہوئے اور اطمینان سے بیٹھ جانے کے بعد گاڑی روانہ ہوئی۔بٹالہ کی جماعت نے بہت اعلیٰ پیمانہ پر برفاب اور دودھ پانی وغیرہ کا انتظام کر رکھا تھا۔فوٹو کے لئے پورا سامان کیا تھا۔کرسیاں وغیرہ بچھا کر اچھی نشست گاہ بنائی تھی مگر وقت کی تنگی اور حضور کی بد سیر رسیدگی نے ان کے دل کی دل ہی میں رہنے دیں۔چلتے چلتے غالبا حضرت میاں شریف احمد صاحب نے اس تمام ہجوم کا فوٹو لیا۔بٹالہ سے روانگی: گاڑی بٹالہ سے جیتی پور پہنچی وہاں بھی زائرین کا ایک اثر دہام حضور کی گاڑی کے سامنے تھا۔سیکنڈ کلاس کے ہر دور یز رو کمپارٹمنٹ تھرڈ کلاس سے زیادہ پر تھے مگر حضور کی موجودگی کی وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ تھی بلکہ وہ تنگی فراخی سے بھی زیادہ مرغوب اور کشائش سے بھی محسوب تھی۔کتھو منگل دیر کا اور آخر امرتسر کا اسٹیشن آ گیا جہاں پلیٹ فارم پر کثرت سے جماعت کے دوست موجود تھے جو لا ہور اور امرتسر اور مضافات سے حضور کی تشریف آوری کی خبر سن کر جمع ہو گئے تھے۔ہماری ریز روگاڑی ٹرین سے کاٹ لی گئی اور ایک کو نہ میں کھڑی کر دی گئی جہاں سے حضور مع چند خدام اور جماعتہائے لاہور اور امرتسر وغیرہ سٹیشن کے متصل ہی ایک کوٹھی میں تشریف لے گئے جہاں ایک دن کے لئے انہوں نے انتظام کر رکھا تھا۔لاہور اور امرتسر کی جماعتوں نے فوٹو لئے۔حضور نے کھانا تناول فرمایا اور پھر گاڑی پر تشریف لے آئے اور جلدی ہی لاہور سے وہ گاڑی آگئی جس کے ساتھ ہماری یہ گاڑی لگائی گئی۔دوست باری باری مصافحہ کرتے جاتے تھے اور دعا کے لئے درخواستیں پیش کرتے جاتے تھے۔گاڑی روانہ ہوگئی اور بعض دوست چلتی گاڑی سے اُترنے کی کوشش میں بعض ساتھ ساتھ دوڑنے کی