سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 2 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 2

وہاں موجود نہ ہوتا۔بابا محمد حسن صاحب کے سپرد یہ کام تھا کہ حضور سے مصافحہ کر کے ہمیں چھپیں مضبوط زمیندار آدمیوں کی ایک جماعت کو لے کر پہلے سے اسی ریت کے مقام پر پہنچیں ، چنانچہ بابا صاحب موصوف اپنی جماعت سمیت لاریوں کے پہنچنے تک اس مقام پر پہنچ چکے تھے۔خود بابا صاحب بوجہ اپنی کمزوری و بڑھا پا کچھ پیچھے رہ گئے تھے ، چنانچہ میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی اس کمی کو دوڑ کر پورا کیا اور ہانپتے ہانپتے منزل مقصود تک پہنچ کر لاری کو دھکیلنے میں مدد کی۔جزاھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء حضرت کی لاری پل پر پہلے پہنچی دوسری لاری پیچھے رہ گئی جس کی انتظار حضور نے اس پل پر فرمائی اور ساتھیوں کو لے کر پھر ا کٹھے نہر کی پڑی کے راستے روانہ ہوئے۔ایک میل کے قریب جا کر حضور کی لاری کے اگلے پیتے میں ہوا کم ہو گئی جس کے لئے ٹھہر نا پڑا اور ہوا بھرنی پڑی مگر ابھی تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ پھر ہوا ختم ہو گئی اور معلوم ہوا کہ ایک بڑا پنکچر ٹیوب میں ہو گیا ہے۔ٹیوب تبدیل کرنے اور ہوا بھرنے پر قریب دس منٹ کے خرچ ہو گئے پھر روانگی ہوئی اور تیزی سے موٹر لاریاں چلنے لگیں۔حضرت کی لاری ذرا تیزی سے چلی اور پچھلی لاری سے فاصلہ کر گئی اور بیرنگ ہائی اسکول سے قریب ایک سو گز آگے نکل کر خاموش کھڑی ہوگئی۔وجہ معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ تیل ختم ہو گیا ہے اور اس لاری کا تیل چھلی لاری میں ہے۔آخر وقت چونکہ بالکل تنگ تھا پہلے مولوی نیک محمد خان صاحب ( جو نہر قادیان کے پل سے موٹر کے پائیدان پر بیٹھے ہوئے ساتھ جا رہے تھے ) بٹالہ سٹیشن کی طرف پیدل دوڑے۔بعد میں مجھے بھی حکم دیا گیا تا کہ سٹیشن پر پہنچ کر اطلاع دیں مگر ہم دونوں ابھی بٹالہ منڈی تک ہی پہنچے تھے کہ پیچھے سے لاریاں آن پہنچیں۔بٹالہ پہنچنا : گاڑی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔جماعت بٹالہ اور دوسرے تمام دوست سخت کشمکش میں تھے۔دوستوں نے آخر فیصلہ کر لیا تھا کہ گاڑی ریز رو کوٹرین کے ساتھ لگوا کر امرتسر لے جایا جاوے تا کہ سامان وغیرہ مع ریز روگاڑی تو امرتسر جا پہنچے۔حضور اگر گاڑی چلنے تک بھی نہ آئے تو موٹروں کے ذریعہ سے ہی امرتسر پہنچ جائیں گے مگر سٹیشن ماسٹر اس معاملہ میں ہارج تھا۔آخر بڑی رڈو کد کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ گاڑی ریز رو جو دوسری لائن پر کھڑی تھی ٹرین کے ساتھ لگا دی جاوے چنانچہ چند قلی گاڑی کو دھکیل کر لا رہے تھے اور گاڑی ٹرین سے بمشکل ایک سوفٹ کے فاصلہ پر تھی جب کہ حضور مع خدام پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔خدام زائرین اور دوسری پبلک کا ایک