سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 127 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 127

۱۲۷ فوٹو لیں۔دو ایک مرتبہ میں اندر سے باہر نکلا سامان کی دیکھ بھال کے لئے تو وہ ایک ہوشیار اور پچست و چاق شکاری کی طرح فور انشا نہ بناتی تھیں مگر سارے قافلہ کو نکلتے نہ دیکھ کر پھر کیمرہ ہٹا لیتیں۔ان میں سے ایک نے تو کسی طرح اِدھر اُدھر سے ایک کرسی بھی حاصل کی جس کے اوپر وہ چڑھ کر کھڑی ہو گئی جہاں سے فوکس ٹھیک لیا جا سکتا تھا اور اس نے لنک کے آدمی سے بھی کچھ سمجھوتہ کر لیا کہ جب حضرت اقدس باہر نکلیں وہ حضور کو ذرا ٹھہرائے تا کہ وہ اطمینان سے فوٹو لے سکے۔کسٹم سے فارغ ہو کر حضور باہر تشریف لائے۔وہ کرسی پر کھڑی تھی کیمرہ سیدھا کیا۔ادھر کنگ کے آدمی نے حضور کو کسی بات کے بہانے ایک لمحہ کے لئے ٹھہرایا اتنے میں اُس نے فوراً اپنا کام شروع کر کے اشارہ کا ہاتھ اُٹھا دیا اور کنگ کے آدمی نے بات ختم کر کے حضور کا راستہ چھوڑ دیا۔وہ فوٹو لے کر اس قدر خوش تھی کہ بیان سے باہر ہے۔تین چار مرتبہ وہ اپنی کرسی پر کھڑے ہی کھڑے گودی اور پھر نیچے اتر کر ا چھلی بہت ہنسی اور خوش ہوئی۔حضور کٹم ہاؤس سے فارغ ہو کر گرانڈ ہوٹل انٹر نیشنل میں تشریف لائے اور کمرہ نمبر ۱۹ میں قیام پذیر ہوئے۔لینچ ہوٹل میں خدام کے ساتھ نوش فرمایا اور نماز ہوٹل کے کمرہ نمبر ۲۹ میں ادا کی جس میں حافظ صاحب کا قیام ہے۔تمام خدام بھی حضرت اقدس کے ہمرکاب اسی ہوٹل میں مقیم ہوئے ہیں۔تاریں یہاں سے لنڈن ، برلن اور قادیان کو دی گئیں۔قادیان کو وہ لمبی تار جو۳ ۳۸ الفاظ کی تھی نہیں دی گئی بلکہ صرف اٹلی میں پہنچنے کی خیریت کی خبر دی ہے۔ایک تار تھا مس کنک پورٹ سعید کو بھی دیا گیا ہے اور پوچھا گیا ہے کہ ہمارے دونوں ساتھی وہاں سے روانہ ہوئے ہیں یا نہیں اگر روانہ ہو گئے ہوں تو جواب روم کے دفتر تھا مس کنگ کی معرفت روا نہ کریں تا کہ تسلی ہو وے بس صرف یہ تار یہاں سے دیئے گئے ہیں۔خطوط بھی اس جگہ سے پوسٹ کئے ہیں مگر افسوس کہ پوسٹ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہمارے خطوط ۱۰ ستمبر کے قریب قادیان پہنچیں گے۔حضرت اقدس نے اس وجہ سے یہاں سے خط نہیں لکھا پیرس سے لکھیں گے انشا اللہ۔برنڈزی ایک چھوٹا سا خوبصورت قصبہ ہے اور سمندر کے ساحل کے بالکل کنارے واقع ہے مٹی کے جہاز بازار کی سڑک کے ساتھ آن کھڑے ہوتے ہیں۔ایک طرف سمندر ہے دوسری