صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 290
سوال ۱۳۸۸ قادیان کو بچانے کے لئے دنیا دی کوششوں میں حضور نے کیسا تدابیر اختیار فرمائیں ؟ جواب پاکستان کے اصلی ترین عہدیداروں سے ملاقاتیں کی گئیں۔پنڈت نہرو سے ملاقات کر کے انہیں ساری صورت حال بتلائی گئی مگر فائدہ نہ ہوا اسکے علاوہ مختلف وفود نے وزیر اعظم پنجاب ڈاکٹر گوپی چند بھارگو اور سردار سورن سنگھ سے بھی ملاقاتیں کیں میٹر گاندھی اور دوسے رہنماؤں کو تاریں دی گئیں۔علاوہ ازیں حضرت مصلح موعود نے بعض مضامین پمفلٹوں کی صورت میں چھپوائے۔سوال ۱۳۸۹ قادیان میں کرفیو کب لگایا گیا ؟ جواب ار ستمبر ۱۹۴۷ کو سوال ۱۳۹۰ قادیان کے مسلمانوں کو تختہ مشق بنانے کے لئے کیا تدابیر کی گئیں ؟ جواب بجلی بند کردی گئی۔کرفیو لگا کر خوب لوٹا گیا۔آٹا پیسنے کی پہچکیاں بند ہوگئیں خاکروبوں کو کام کرنے سے روکا۔گھروں کی تلاشیاں لے کر ہر قسم کا سامان لے گئے۔بات بے بات گولیاں چلا چلا کہ ہراساں کیا اور تقریب پانچ سو مسلمان مارے گئے۔سوال ۱۳۹۱ کیا اس وقت کے پریس نے احمدیوں کی بہادری کو سراہا ؟ بجواب پاکستان اور بیرون پاکستان متعدد با اثر اخبارات نے مفصل خبریں شائع کیں۔اور ان کے حوصلوں کو سراہا۔سوال ۱۳۹۲ پاکستان میں قیام امن کے لئے احمدیوں نے کیا کوششیں کیں ؟ جواب احمدیوں کو ہدایت کی گئی کہ ہندوؤں اور سکھوں کی جو بھی چیز ہے۔و شار کو دے دور اُن کا قافلہ ملے تو تعرض نہ کرو ہلکے کھانا وغیرہ کھلا دو اس مشین ملوک کے اپنے پرائے سب معترف تھے۔قیام امن کے لئے گاندھی جی کو خط بھی رکھا۔سوال ۱۳۹۳ تحریک جدید صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا قیام کب عمل میں آیا اور اس کے پہلے انچارج کون تھے ؟ جواب وسط نومبر شام کو دفتر جونت بلڈنگ کے ایک کمرہ میں بنایا گیا