سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 79

سبیل الرشاد جلد چہارم 79 انصار اللہ کے چندوں کا بھی جائزہ لیا اور بجٹ بنانے کے بارہ میں بھی ہدایات سے نوازا۔الفضل انٹر نیشنل 1 جولائی 2005ء) انصار وصیت کے نظام کی طرف جلدی بڑھیں حضور انور کا ماہنامہ انصار اللہ وصیت نمبر کے لئے خصوصی پیغام پیارے صدر صاحب مجلس انصاراللہ ربوہ السلام عليكم ورحمة الله و بركاته یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ماہنامہ انصار الله وصیت کے حوالہ سے خصوصی اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے۔جزاكم الله احسن الجزاء۔وصیت کے نظام کو قائم ہوئے خدا کے فضل سے سوسال پورے ہو رہے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعودؓ نے اپنی وفات سے دو سال قبل اس نظام کو جاری فرمایا۔یہ آپ کی آخری وصیت تھی جو آپ نے اپنے ماننے والوں کو فرمائی اور یہ خوشخبری دی کہ یہ نظام خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے خاص انعام ملے تو اس نظام میں شامل ہو جاؤ۔آپ فرماتے ہیں۔و تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اسکی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے جو ہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 308 مطبوعہ لندن ) پس وصیت کا نظام اصلاح نفس کا زبردست ذریعہ ہے۔اس نظام کے قیام سے جنت قریب کر دی گئی ہے۔اگر کوئی ایک وقت میں جنتی نہیں بھی تو وہ اس نظام میں شامل ہونے کی وجہ سے جنتی بنادیا جائے گا۔میں نے جلسہ سالانہ یو کے 2004ء کے اختتامی خطاب میں احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اس آسمانی نظام میں اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے۔اپنی نسلوں کی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے شامل ہوں اور ایک سال میں کم از کم پندرہ ہزارنئی وصایا ہو جائیں تا کہ اس سال کے آخر تک اس نظام میں کم از کم پچاس ہزار موصی بن جائیں اور نظام کے قیام پر سو سال ہو جانے پر کم از کم پچاس فیصد چندہ دہند موصی بن جائیں اور ایسے مومن نکلیں کہ کہا جائے کہ انہوں نے خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔الحمد للہ کہ میری آواز پر مسیح موعود کی پیاری جماعت نے لبیک کہتے ہوئے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور کثرت سے احمدی نظام وصیت میں داخل ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی ان مالی قربانیوں کو