سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 66

66 سبیل الرشاد جلد چہارم جائے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے اور اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔) اور اگر تیرے مانگنے پر تجھے یہ عہدہ دیا گیا ہے تو تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوگا۔( ذراسی بھی غلطی ہوگی تو پکڑ بہت زیادہ ہوگی۔اور جب تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق قسم کھائے اور پھر اس قسم سے بر عکس تجھے بہتر بات نظر آئے تو وہ بہتر بات کر اور اپنی قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔(بخاری کتاب الاحکام ) یہی ہے کہ عہدیداران بھی بعض دفعہ قسم تو نہیں کھاتے لیکن بعض ضدیں ہوتی ہیں کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہئے تو اگر جماعت کے مفاد میں ہو تو پھر تمہاری ضدیں یا تمہاری قسمیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ان کو ختم کرو۔یہ جماعت کے مفاد میں حائل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس طرح کام ہونا چاہئے جس طرح جماعت کے حق میں بہترین ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو بد کا یا نہ کرو۔(صحیح بخاری کتاب اعلم۔باب ما کان النبی خولهم بالموعظة والم کی لاینر وا) تو اصولی قواعد بھی اس لئے ہیں کہ صحیح سمت میں چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے بہتری اور آسانی پیدا کی جائے۔تمہاری ضدیں، تمہاری قسمیں تمہاری انائیں سنبھی بھی کسی بات میں حائل نہ ہوں جس سے لوگ تنگ ہوں۔اگر کوئی قاعدہ بن بھی گیا ہے یا کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہے اگر اس سے لوگ تنگ ہورہے ہیں تو بدلا جا سکتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ تمہارے پاس خوشی کی خبروں اور محبت اور پیار کے پیغاموں کے لئے اکٹھے ہوا کریں نہ کہ تنگ ہونے کے لئے دور بھاگتے چلے جائیں۔عہدیداران، مربیان کا ادب و احترام اپنے دل اور لوگوں کے دلوں میں پیدا کریں پھر دنیا میں ہر جگہ جماعتی عہدیداروں کی ایک یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مبلغین یا جتنے واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں میں بھی۔ان کی عزت کرنا اور کروانا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ، حسب گنجائش اور توفیق ان کے لئے سہولتیں مہیا کرنا، یہ جماعت کا اور عہدیداران کا کام ہے تاکہ ان کے کام میں یکسوئی رہے۔وہ اپنے کام کو بہتر طریقے سے کر سکیں۔وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔اگر مربیان کو عزت کا مقام نہیں دیں گے تو آئندہ نسلوں میں پھر آپ کو واقفین زندگی اور مربیان تلاش کرنے بھی مشکل ہو جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ واقفین نو کی تحریک کے تحت بہت سے واقفین نو بچے وقف کے میدان میں آ رہے ہیں۔لیکن جتنا جائزہ میں نے لیا ہے میرے خیال میں جتنے مبلغین کی ضرورت ہے اتنے اس میدان میں نہیں آرہے دوسری فیلڈز (Fields) میں جارہے ہیں۔بہر حال جب مربی کو مقام دیا جائے