سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 65

65 سبیل الرشاد جلد چہارم عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش کرے۔یہ تو ایسا خوف کا مقام ہے کہ اگر صحیح فہم اور ادراک ہو تو انسان ایک کونے میں لگ کے بیٹھ جائے۔پس عہدیدار اس فضل الہی کی قدر کریں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اپنی ذمہ داریوں کو نبھا ئیں۔اللہ تعالیٰ کا غضب لینے کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے بنیں۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حا کم ہوگا اور سخت نا پسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہوگا۔(ترمذی ابواب الاحکام باب فی الامام العادل) پس سب کو چاہئے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محبوب بنیں۔اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے وہ طریقے اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن مرہ نے حضرت معاویہؓ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجتمندوں، ناداروں غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔( ترمذی کتاب الاحکام باب فی امام الرعية ) جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیداران خلیفہ وقت کے نمائندہ ہیں پس لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کریں، اپنے بھائیوں سے ، بہنوں سے اس لئے پیار اور محبت کا سلوک کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اس کا محبوب بننا ہے۔اور یا درکھیں امراء بھی ، صدران بھی اور عہدیداران بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران بھی کہ وہ خلیفہ وقت کے مقرر کردہ انتظامی نظام کا ایک حصہ ہیں اور اس لحاظ سے خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔اس لئے ان کی سوچ اپنے کاموں کو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئے اسی طرح چلنی چاہئے جس طرح خلیفہ وقت کی۔اور انہیں ہدایات پر عمل ہونا چاہئے جو مرکزی طور پر دی جاتی ہیں۔اگر اس طرح نہیں کرتے تو پھر اپنے عہدے کا حق ادا نہیں کر رہے۔جو اس کے انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔پھر عہدے کی خواہش کرنا ہے پہلے بھی میں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو جماعت میں بڑی معیوب سمجھی جاتی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو اس بارے میں کوشش کرتا ہے۔اس بارے میں ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے عبدالرحمن ! تو امارت اور حکومت نہ مانگ۔اگر تجھے بغیر مانگے یہ عہدہ ملے تو اس ذمہ داری کے بارے میں تیری مدد کی جائے گی۔( یعنی خواہش نہ ہو اور پھر عہدہ مل