سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 62
سبیل الرشاد جلد چہارم 62 چاہئیں۔کبھی تمہاری ذاتی انا، رشتہ داریوں یا دوستیوں کا پاس انصاف سے دور لے جانے والا نہ ہو۔کبھی کسی عہدیدار کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ فلاں شخص نے مجھے ووٹ نہیں دیا تھا۔یا فلاں کا نام میرے مقابلے کے لئے پیش ہوا تھا اس لئے مجھے کبھی موقع ملا، کبھی کسی معاملے میں تو اس کو بھی تنگ کروں گا۔یہ مومنانہ شان نہیں ہے بلکہ انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔عہدیداران اور احباب جماعت ایک دوسرے کے لئے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی ہے یہ ایسی نصیحت ہے کہ تم دونوں، ووٹ دے کر منتخب کرنے والوں اور عہدیداروں ، دونوں کے لئے بڑی اعلیٰ نصیحت ہے کہ ووٹ دینے والا سوچ سمجھ کر ووٹ دے اور جو شخص منتخب ہو جائے وہ بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔اللہ تعالیٰ ہر عہد یدار کو چاہے وہ جماعتی عہدیدار ہوں یا ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا افراد جماعت کو بھی اور عہدیداران کو بھی یہ توجہ دلائی ہے کہ اس کے بعد بھی دعاؤں میں لگے رہو۔ہر عہدیدار انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ سے دعا مانگے کہ وہ اسے ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر فر د جماعت یہ دعا کرے کہ جو عہد یدار منتخب ہوئے ہیں وہ ہمیشہ اس امانت کے ادا کرنے کے حق کو اس کے مطابق ادا کرتے رہیں۔اور کبھی کوئی مشکل نہ آئے ، کبھی کوئی ابتلاء نہ آئے جو عہد یدار اور افراد جماعت کے لئے کسی بھی قسم کی ٹھوکر کا باعث بنے۔اگر اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے کہ یہ عہدیدار جو انہوں نے منتخب کیا ہے وہ پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا نہیں کر رہا تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایسے انتظامات فرمائے کہ اسے بدل دے تا کہ کبھی نظام جماعت پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس طرح دونوں مل کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس نیک نیت سے کی گئی دعاؤں کو سنے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کے لئے اور دین کی خدمت کرنے والوں پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔وہ بڑی گہری نظر رکھتا ہے۔وہ دیکھ رہا ہے، وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ اس درد کی وجہ سے جو تمہارے دل میں ہے ہمیشہ بہتری کے سامان پیدا فرما تارہے گا اور ہمیشہ تمہیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط رکھے گا۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر قسم کی ٹھوکر سے بچائے۔عہد یداران انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں اب میں ذرا وضاحت سے عہدیداران کا احباب جماعت سے کس قسم کا رویہ یا سلوک ہونا چاہئے