سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 61

61 سبیل الرشاد جلد چهارم پہلی بات تو یہ کہ عہدیدار چنے والوں کو فرمایا کہ عہدے اُن کو دو، اُن لوگوں کو منتخب کرو جو اس کے اہل ہوں۔اس قابل ہوں کہ جس کام کے لئے انہیں منتخب کر رہے ہو وہ اس کو کرسکیں ، وقت دے سکیں۔یہ نہیں کہ چونکہ تمہارے تعلقات ہیں، اس لئے ضرور اس عہدے کے لئے اسی کو منتخب کرنا ہے یا ضرور اسی کو اس عہدے کے لئے ووٹ دینا ہے۔اس میں ایک بہت بڑی ذمہ داری چناؤ کرنے والوں پر منتخب کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔اس لئے جو ووٹ دینے کے جماعتی قواعد کے تحت حقدار ہیں، ہر ممبر تو ووٹ نہیں دیتا۔جو بھی ووٹ دینے کا حقدار ہے ان کو ہمیشہ دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہئے کہ جو بہتر ہو اس کو ووٹ دے سکے۔یہاں ضمنا یہ بھی بتادوں کہ بعض دفعہ بعض افراد پر کسی وجہ سے پابندی لگی ہوتی ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔اس لئے اس بارے میں ضد نہیں کرنی چاہئے کہ کیونکہ ہمارے نزدیک فلاں شخص ہی اس کام کے لئے موزوں تھا یا موزوں ہے اس لئے اسی کو ہم نے ووٹ دینا تھا اور اس کی اجازت دی جائے ورنہ ہم انتخاب میں شامل نہیں ہوتے۔یہ غلط طریق ہے۔اطاعت کا تقاضا یہ ہے اور نظام جماعت کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی فیصلہ ہو گیا ہے کہ کسی شخص کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر اس بارے میں اصرار نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔۔عہدہ ایک قومی امانت ہے اس کا حق ادا کرو اور یہ بھی ذہن میں رہے، منتخب کرنے والوں کے اور جو منتخب ہور ہے ہیں ان کے بھی، بعض دفعہ لمبا عرصہ کر کے بعض ذہنوں میں باتیں آجاتی ہیں کہ کوئی عہدہ جماعت میں کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے، کوئی مستقل حق نہیں ہے۔اس لئے جو خدمت کا موقع ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کا فضل ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی خدمت کا موقع دے دیتا ہے۔خود کبھی خواہش نہیں کرنی۔اس لئے اشارہ بھی کبھی کسی قسم کا یہ اظہار نہیں ہونا چاہئے کہ مجھے عہد یدار بناؤ۔نہ کسی کے دوست یا عزیز کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی شخص کے حق میں ہلکا سا بھی اشارہ یا کنابیۂ اظہار کرے کہ اس کو ووٹ دیا جائے۔اگر نظام جماعت کو پتہ چل جاتا ہے تو پھر جس کے حق میں پہلے پراپیگنڈہ کیا گیا ہے اس کو بھی اور جو پراپیگنڈہ کرنے والا ہے یا جس نے کوئی بات کسی کے لئے کہی ہو انتخابات سے پہلے، اس کو بھی انتخابات میں شامل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔اس حق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور کر بھی دیا جاتا ہے۔اس لئے یہ جو جماعت کے انتخاب ہیں ان کو خالصتا اللہ تعالیٰ کے لئے خدمت گزاروں کی ٹیم چننے والا تصور کر کے انتخاب کرنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے منتخب عہدیداران کی ذمہ داری بھی لگائی ہے کہ تمہیں جب منتخب کر لیا جائے تو پھر اس کو قومی امانت سمجھو۔اس امانت کا حق ادا کرو۔اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھاؤ۔اپنے وقت میں سے بھی اس ذمہ داری کے لئے وقت دو۔جماعتی ترقی کے لئے نئے نئے راستے تلاش کرو۔اور تمہارے فیصلے انصاف اور عدل کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہونے