سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 40
سبیل الرشاد جلد چہارم 40 عہد یدار آنے والے ہر فر دکو خوش آمدید کہیں اور اُٹھ کر ملیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 3 ستمبر 2004ءکو خطبہ جمعہ میں فرمایا جماعت کے عہدیداران کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں، ان کو بھی سبق لینا چاہئے کہ ملنے کے لئے آنے والے کو اچھی طرح خوش آمدید کہنا چاہئے۔خوش آمدید کہیں ، ان سے ملیں ، مصافحہ کریں، ہر آنے والے کی بات کو غور سے سنیں۔بعض لکھنے والے مجھے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے بعض معاملات ہیں کہ آپ سے ملنا تو شاید آسان ہو لیکن ہمارے فلاں عہدیدار سے ملنا بڑا مشکل ہے۔تو ایسے عہدیداران کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ حسنہ کو یا درکھنا چاہئے ، ملنے والے سے اتنے آرام سے ملیں کہ اس کی تسلی ہو اور وہ خود تسلی پا کر آپ سے الگ ہو۔پھر دفتروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ہر آنے والے کو کرسی سے اٹھ کر ملنا چاہئے ، مصافحہ کرنا چاہئے۔اس سے آپ کی عاجزی کا اظہار ہوتا ہے اور یہی عاجزی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے۔دیکھیں آپ بیٹھتے وقت بھی کتنی احتیاط کیا کرتے تھے (خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 637-638) تمام قائدین دستور اساسی کا مطالعہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 5 ستمبر 2004 ء کو نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ جرمنی کی میٹنگ میں باری باری تمام سیکرٹریان ( قائدین ) سے تعارف حاصل کیا اور ہر ایک سے اُس کے شعبہ کے کام اور پروگرام کے بارہ میں دریافت فرمایا اور قائد عمومی کو ہدایت فرمائی کہ ہر ماہ مجلس انصار اللہ کے کام کی رپورٹ با قاعدگی سے حضورا نور کی خدمت میں بھجوائیں۔حضور انور نے تمام قائدین کو ہدایت فرمائی کہ انصار اللہ کے کانسٹی ٹیوشن، دستور اساسی کا مطالعہ کریں۔اور ہر قائد اپنے شعبہ کے بارہ میں لائحہ عمل اور ہدایات پڑھے اور پھر اس کے مطابق اپنے اپنے شعبہ کو آر گنائز کریں اور پروگرام بنائیں اور کام کریں۔قائد تعلیم کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ انصار کے مطالعہ کیلئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جو چھوٹی کتب ہیں وہ مقرر کریں اور باقاعدہ امتحان لیں۔حضور انور نے فرمایا ” سال میں کم از کم دو امتحان تو ہو سکتے ہیں“۔انصار کی آمد اور چندوں کا بھی حضور انور نے تفصیل سے جائزہ لیا اور ہدایت فرمائی کہ چندہ بڑھانے میں بہت گنجائش ہے۔چندے مزید بڑھائے جاسکتے ہیں۔فرمایا موصیان کی تعداد بڑھائیں“۔قائد ایثار کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ " یہاں جو Old People Homes ہیں جہاں بوڑھے لوگوں کو رکھا جاتا ہے وہاں ہمارے انصار جائیں۔ان لوگوں سے ملیں۔باتیں کر میں ان کا حال دریافت کریں۔پھول پھل وغیرہ لے کر جائیں۔اس طرح ان سے ملنے اور باتیں کرنے سے آپ کو مقامی