سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 32

32 سبیل الرشاد جلد چہارم (3) امراء اور عہدیداران یا مرکزی کارکنان یہ دعا کریں کہ ان کے ماتحت یا جن کا ان کو نگران بنایا گیا ہے، شریف النفس ہوں، جماعت کی اطاعت کی روح ان میں ہو اور نظام جماعت کا احترام ان میں ہو۔(4) کبھی کسی فرد جماعت سے کسی معاملہ میں امتیازی سلوک نہ کریں اور یہ بھی یا درکھیں کہ بعض لوگ بڑے ٹیڑھے ہوتے ہیں۔مجھے علم ہے کہ امراء کے، عہدیداران کے، یا نظام جماعت کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے ایسے لوگوں نے لیکن پھر بھی ان کی بد تمیزیوں کو جس حد تک برداشت کر سکتے ہیں کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر کسی قسم کا شکوہ نہ کریں، بدلہ لینے کا خیال بھی کبھی دل میں نہ آئے۔ان کے لئے دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔(5) پھر یہ کہ نظام جماعت کا استحکام اور حفاظت سب سے مقدم رہنا چاہئے اور اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے۔پھر بھی اپنے گرد جی حضوری کرنے والے یا خوشامد کرنے والے لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دیں۔جن عہدیداروں پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو جاتا ہے پھر ایسے عہدیداران سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ایسے عہد یدار پھر ان لوگوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتے ہیں تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بُرے مشیر میرے اردگر دا کٹھے نہ کرے۔(6)۔۔۔۔پھر یہ بھی یادرکھنے والی بات ہے جیسا کہ میں بیان بھی کر چکا ہوں کہ جہاں نظام جماعت کے تقدس پر حرف نہ آتا ہو، عفو اور احسان کا سلوک کریں۔ان کے لئے مغفرت مانگیں جو ان کی اصلاح کا موجب بنے۔یہ تو عہد یدارن کے لئے ہے لیکن آخر میں میں پھر احباب جماعت کے لئے ایک فقرہ کہہ دیتا ہوں کہ آپ پر بھی ، جو عہدیدار نہیں ہیں ، ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کا کام صرف اطاعت ، اطاعت اور اطاعت ہے اور ساتھ دعا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے " خطبات مسرور جلد 1 صفحه 531-532)