سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 31

سبیل الرشاد جلد چہارم 31 ہوں۔ایسے لوگوں کو یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہئے۔۔۔۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عہدے لینے کے لئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں۔ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کے لئے اور لعنت ہوتے ہیں اپنے نفس کے لئے۔وہ وہی ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ 0 الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآء ون ( الماعون: 5-7 ریا ہی ریا ان میں ہوتی ہے۔کام کرنے کا شوق ان : میں نہیں ہوتا۔۔(مشعل راه جلد اول صفحه 20-21) پھر حضرت مصلح موعودؓ نے کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ۔" کارکنوں کو چاہئے کہ تندہی سے کام کریں۔یہ خواہش کہ ہمارا نام و نمود ہوا ایسا خیال ہے جو خراب کرتا ہے۔اس خیال کے ماتحت بہت لوگ خراب ہو گئے ہیں، ہوتے ہیں ہوتے رہیں گے۔تم اللہ سے ڈرو اور اسی سے خوف کرو اور اس بات کو مدنظر رکھو کہ اس کا کام کر کے اس سے انعام کے طالب ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لوگوں سے مدح اور تعریف نہ چاہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں للہیت پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور مجھ پر بھی رحم کرے۔آمین" خلاصہ ہدایات بابت عہدیداران خطبه فرمودہ 22 / دسمبر 1922 ء از خطبات محمود جلد 7 صفحہ 433)۔۔۔پھر آخر میں خلاصہ دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ جو باتیں میں نے کہی ہیں عہد یداران کے لئے اور یہ خلفائے سلسلہ کہتے چلے آئے ہیں پہلے بھی لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد بعض باتیں یاد نہیں رہتیں۔جو نئے آنے والے عہدیداران ہوتے ہیں جو نہیں سمجھ رہے ہوتے صحیح طرح اس لئے بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔تو خلاصہ یہ باتیں ہیں: (1) عہدیداران پر خود بھی لازم ہے کہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں اور اپنے سے بالا افسر یا عہدیدار کی مکمل اطاعت اور عزت کریں۔اگر یہ کریں گے تو آپ کے نیچے جو لوگ ہیں،افراد جماعت ہوں یا کارکنان ، آپ کی مکمل اطاعت اور عزت کریں گے۔(2)۔یہ ذہن میں رکھیں کہ لوگوں سے نرمی سے پیش آنا ہے۔ان کے دل جیتے ہیں، ان کی خوشی غمی میں ان کے کام آنا ہے۔اگر آپ یہ فطری تقاضے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عہد یدار کے دل میں تکبر پایا جاتا ہے۔