سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 414
سبیل الرشاد جلد چہارم 414 اگر امام اس سبحان اللہ پر اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے۔اگر وہ اصلاح نہیں کرتا، اسی طرح اپنے عمل جاری رکھتا ہے تو تمہارا کام کامل اطاعت کرتے ہوئے اس کے ساتھ اٹھنا اور بیٹھنا ہے۔تمہارا کوئی حق نہیں بنتا ہے کہ تم اپنے طور پر نماز پڑھنی شروع کر دو۔اسی طرح تم نے بیٹھنا ہے اسی طرح اٹھنا ہے اسی طرح جھکنا ہے۔پس آگے انہوں نے فرمایا کہ جب عارضی امامت میں اطاعت کا یہ معیار ہے اس کی اتنی پابندی ہے تو خلیفہ وقت کی بیعت میں آ کر جو تم عہد کرتے ہو اور خوشی سے عہد کر کے خود شامل ہوتے ہو، اس میں کس قدر اطاعت ضروری ہے۔جبکہ تم نے خود سوچ سمجھ کر یہ بیعت کی ہے۔پس یا درکھیں عہد بیعت پورا کرنے کے لئے اطاعت انتہائی اہم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قد ر ا طاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے بڑوں اس کے اطاعت ہو ہی نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔بڑے بڑے تو حید کا دعویٰ کرنے والے جو ہیں وہ بھی اطاعت سے بعض دفعہ باہر نکل جاتے ہیں بت بنا بیٹھتے ہیں۔فرمایا: ” کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کریں۔پھر فرماتے ہیں کہ اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو سر ہے۔اللہ تعالیٰ تو حید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں کی جاسکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 247 - 246 تفسیر سورة النساء زیر آیت 59 الحکم جلد 5 نمبر 5 مورخہ 10 فروری 1901 ، صفحہ 1 کالم 3-2) تاریخ اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ نے کامل اطاعت کی وجہ سے اپنی گردنیں کٹوانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور چند سالوں میں دنیا میں اسلام کو پھیلا دیا تو یہ اطاعت کی وجہ تھی۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنگوں سے اسلام پھیلا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ بھی انہوں نے کی۔اگر کہیں جنگوں کا سامنا ہوا تو دشمن کی کثرت اور تعدا د اور حملے انہیں اپنے کام سے روک نہیں سکے۔اطاعت کی روح ان میں تھی تو کثیر دشمن کے سامنے بھی اگر ضرورت پڑی تو کھڑے ہو گئے اور اس کے مقابلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے ماننے والوں نے اطاعت کا نمونہ نہ دکھا کر چالیس سال تک اپنے آپ کو انعام سے محروم رکھا۔پس اگر ترقی کرنی ہے تو اس