سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 410
410 سبیل الرشاد جلد چهارم قدم قدم مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ آپ کو کیا ہوا ہے جو اس طرح گھسٹ رہے ہیں۔آپ نے یہی جواب دیا کہ اندر سے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔پوچھنے والے نے کہا کہ یہ حکم تو اندر والوں کے لئے تھا۔آپ نے جواب دیا مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ اندر والوں کے لئے ہے یا باہر والوں کے لئے یا سب کے لئے۔میرے کان میں اللہ کے رسول کی آواز پڑی اور میں نے اطاعت کی۔پس یہی میرا مقصد ہے۔(ماخوذ از سنن ابی داؤد كتاب الجمعة باب الامام يكلم الرجل في خطبته حديث 1091) پس یہ معیار ہیں اطاعت کے جو ہمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔بعض عہد یدار خلیفہ وقت سے جو کوئی ہدایت آتی ہے تو اس پر عمل بھی کر لیتے ہیں لیکن بڑے انقباض سے، نہ چاہتے ہوئے یہ عمل کرتے ہیں۔اور نہ چاہتے ہوئے عمل کرنا کوئی اطاعت نہیں ہے۔اطاعت وہی ہے جو فوری طور پر کی جائے۔اپنی رائے رکھنا کوئی بُری بات نہیں ہے۔لیکن جب کسی معاملے میں خلیفہ وقت کا فیصلہ آ جائے کہ یوں کرنا ہے تو پھر اپنی رائے کو یکسر بھلا دینا ضروری ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض معاملات میں اپنی رائے رکھتا ہوں اور اپنی طرف سے دلیل کے ساتھ خلیفہ اسی کو اپنی رائے پیش کرتا ہوں لیکن اگر میری رائے رڈ ہو جائے تو کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا کہ کیوں یہ رد ہوئی ہے یا میری رائے کیا تھی۔پھر میری رائے وہی بن جاتی ہے جو خلیفہ وقت کی رائے ہے۔پھر کامل اطاعت کے ساتھ اس حکم کی بجا آوری پر میں لگ جاتا ہوں جو خلیفہ وقت نے حکم دیا تھا۔ما خوف از حیات بشیر مؤلفہ شیخ عبد القادر صاحب سابق سود اگر مل صفحه 323-322 مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : غستال کی طرح اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دو۔(ماخوذ از خطبات نور صفحہ 131) جس طرح مردہ اپنے آپ کو ادھر ادھر نہیں کر سکتا ، حرکت نہیں کر سکتا، اس کو نہلانے والا اس کو حرکت دے رہا ہوتا ہے۔(ماخوذ از خطبات نورصفحہ 131 مطبوعہ ربوہ ) اسی طرح کامل اطاعت والے کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دیدے اور جب یہ معیار ہوگا تو تبھی عہد بیعت نبھانے والے بن سکیں گے تبھی اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو جس نے بیعت کا عہد کیا ہے نہ صرف یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی بلکہ اپنے عمل سے اس کا ثبوت دینا ہو گا۔اپنے نمونے نئے آنے والوں کے لئے بھی اور اپنی اولادوں کے لئے بھی قائم کرنے ہوں گے۔نوجوانوں کو بھی اپنے نمونے بڑوں کو دکھانے کی ضرورت ہے، یعنی بڑے اپنے نمونے قائم کریں جو ان کے بچے اور نو جوان دیکھیں اور سیکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ معیار اوپر سے لے کر نیچے تک ہر عہد یدار کو دکھانا ہوگا ، قائم کرنا ہوگا۔یہاں بعض ذہنوں میں کبھی کبھی یہ سوال اٹھتا ہے۔اگر وہ باتیں سیح ہیں۔