سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 399
سبیل الرشاد جلد چہارم 399 اپنے اپنے دائرے میں افراد جماعت کے سامنے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کی کوشش کے لئے بار بار ذکر نہیں کرتے ، یا اُس طرح ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہئے ، یا اُن کے اپنے نمونے ایسے نہیں ہوتے جن کو دیکھ کر ان کی طرف توجہ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کا بار بار ذکر کر کے اس بارے میں اُن بزرگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور نشانات کے واقعات بھی شدت سے نہیں دہرائے جاتے اور یہ یقین پیدا نہیں کرواتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو کسی خاص وقت اور اشخاص کے لئے مخصوص نہیں کر دیا بلکہ آج بھی اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔اگر بار بار ذکر ہو اور یہ تعلق پیدا کرنے کے طریقے بتائے جائیں ، اگر اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کیا جائے تو بچوں ، نو جوانوں میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا کیوں قبول نہیں کی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔پھر دعا کی قبولیت کے فلسفے کی بھی سمجھ آ جاتی ہے اور نشانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ بات عام طور پر بتانے کی ضرورت ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق سے جڑ کر اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے۔نشانات صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات یا زمانے تک محدود نہیں تھے یا مخصوص نہیں تھے بلکہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنی تمام تر قدرتوں کے ساتھ جلوہ دکھاتا ہے۔پس نیکیوں کو حاصل کرنے کی تڑپ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی تڑپ ہماری جماعت میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہو سکتا ہے جو گناہ کو بہت حد تک مٹادے گا۔گناہ کو مکمل طور پر مٹانا تو مشکل کام ہے، اس کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے۔یا اکثر حصہ جماعت کا ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگا اور ہوسکتا ہے جو گناہوں پر غالب آ جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 453-452 خطبہ جمعہ بیان فرموده 10 جولائی 1936 مطبوع فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) عہدیداران کو اپنے اپنے دائرہ میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے پس اس کے لئے ہمارے مربیان اور امراء اور عہدیداران کو اپنے اپنے دائرے میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بتا کر اصلاح کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کی کامل پیروی کرنے والے خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے اور ایسے لوگوں کی اکثر دعاؤں کو خدا تعالی سنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں اور مجھے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بعض واقعات کا مختلف وقتوں میں ذکر بھی ہوتا رہتا ہے اور میں بھی بیان کرتا رہتا ہوں۔ایسے لوگوں کے واقعات جن کی نقل کرنی چاہئے پس ایسے واقعات ہیں جو نقل کی تحریک پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں نقل اگر کرنی ہے تو ایسے