سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 332
332 سبیل الرشاد جلد چہارم میں واپس لوٹاؤں گا۔( پیسے تو ملے لیکن یہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دیئے کہ اب ایمان داری کا بھی آگے امتحان شروع ہوتا ہے)۔چنانچہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا سائیکل پکڑا اور کوئی شہر آ کر یہ رقم ریڈیو کے ڈائریکٹر کولوٹا دی۔ڈائریکٹر نے عثمان صاحب سے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے رکیں۔وہ بندہ جس کے پیسے ہیں وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ آئے جن کی رقم تھی۔انہوں نے رقم گنی جو ایک ملین فرانک سے زائد تھی۔اور وہ پوری تھی۔اس کے بعد انہوں نے کچھ رقم عثمان صاحب کو بطور انعام کے دینا چاہی جسے عثمان صاحب نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میرا انعام اللہ تعالیٰ نے مجھے دے دیا ہے۔مجھے ان پیسوں کی ضرورت نہیں۔اور خدا کے فضل سے اس واقعہ کے بعد اس گاؤں کے جو احباب جماعت ہیں، ان کے ایمانوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔محمد احمد راشد صاحب مبلغ جر منی لکھتے ہیں کہ ایک جرمن سائمن گلہر (Simon Geelhaar) نامی نوجوان نے بیعت کی۔یہ اس سے قبل بھی مسلمان تھے۔ان کی جب خاکسار سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ میں نے جب اسلام قبول کیا تو میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ سارے مسلمان ملت واحدہ ہیں لیکن بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہاں تو بہت سارے فرقے ہیں۔اب مجھے کیسے پتہ چلے کہ کون حق پر ہے؟ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا کہ اگر آپ صدق دل سے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی رہنمائی کرے گا۔انہوں نے دو تین دن ہی دعا کی تھی کہ ان کو دو مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔وہ کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اُن کو نہیں آتا تھا۔اس زیارت کے دوران یہ نام بآسانی زبان پر آنا شروع ہو گیا۔نیز اس زیارت کے نتیجے میں اُن کے دل میں ایک نور پیدا ہوا اور اُن کو ایک طمانیت ملی کہ احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔یہ دوست گزشتہ عید کے روز خاکسار کے پاس آئے اور نماز عید ادا کی۔اپنی خواب میں دو مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ کر بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔اور اللہ کے فضل سے بیعت کی۔فضل مجوکہ صاحب پرتگال سے لکھتے ہیں کہ پرتگال میں مقیم مراکش کے ایک دوست از نین رضوان صاحب نے خاکسار سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مشن میں آنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہیں مشن کا ایڈریس دیا گیا اور وہ مشن تشریف لائے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ایک سال سے ایم ٹی اے العربیہ دیکھ رہے ہیں اور وہ سو فیصد مطمئن ہیں اور بیعت کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہیں بیعت فارم دیا گیا جس کو انہوں نے پڑھا اور پُر کر دیا۔از نین رضوان صاحب نے احمدیت کی طرف راغب ہونے کے متعلق دوخواب بتائے۔کہتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل جب ایم ٹی اے العربیہ پر اَلحِوَارُ الْمُبَاشَر کا پروگرام دیکھ رہاتھا اور پروگرام کے آخر میں پڑھے جانے والے اقتباس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے تو تب