سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 331
331 سبیل الرشاد جلد چہارم تھی اور مجھے لکھتے ہیں کہ آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔اس گاؤں میں ٹی وی (TV) کے اوپر یہ پہلا پروگرام تھا جو آ رہا تھا، جس میں میری موجودگی میں وہاں کینیڈا کا جلسہ ہو رہا ہے۔نومبائعین نے ایم ٹی اے پر اُسے دیکھا۔جب سارے گاؤں کے نو مبائع ایم ٹی اے دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تو اس گاؤں کے چیف الحاجی موسیٰ ابوبکر نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ شخص یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اور اللہ کے فضل سے اُس نے کہا کہ ہمیں خوشی ہورہی ہے کہ ہم نے بچے امام کو مانا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اظہار کرواتا ہے۔اکبر احمد صاحب امیر جماعت نائیجر لکھتے ہیں کہ نائیجر کے برنی کونی شہر سے گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر راڈاڈ وا(Radadaoua) ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔اس گاؤں کے باسیوں نے علاقے میں سب سے پہلے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔وہابی مولوی اس گاؤں پہنچے اور احباب جماعت سے کہا کہ احمدی تو مسلمان ہی نہیں ہیں۔ان کا تو قرآن بھی اور ہے۔یہ مولوی ایک گروپ کی شکل میں وہاں پہنچے۔بڑے بڑے جبہ پہنے ہوئے تھے۔عربی بول کر اور قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر سادہ لوح احباب کو بہکانے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ سادہ لوح احباب جن کو بیعت کئے سات آٹھ سال ہو گئے ہیں۔جماعتی پروگراموں میں با قاعدہ شامل ہوتے ہیں۔چندہ دیتے ہیں۔اُن کے بچے وغیرہ نماز سیکھ چکے ہیں۔وہ ان مولویوں کی باتیں سن کر پریشان ہوئے کہ وہ کیا کریں۔بہر حال دل میں خیال پیدا ہوا کہ پھر سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔کہتے ہیں اسی گاؤں کے رہنے والے ایک دوست عثمان صاحب نے بتایا کہ یہ سب سن کر اُن کو بہت دکھ ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے رات دعا کی کہ اے اللہ! تو خود میری رہنمائی فرما۔اگر جماعت احمد یہ جھوٹی ہے تو خود مجھے اس سے بچا اور اگر جماعت سچی ہے تو کل مجھے پیسے ملیں۔( یہ عجیب شرط لگائی انہوں نے )۔تو کہتے ہیں کہ عثمان صاحب کہتے ہیں کہ اگلے دن صبح میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ گھر سے کام کے لئے نکلا۔سڑک پر جارہا تھا کہ سڑک کے کنارے ایک کالا پلاسٹک کا لفافہ پڑا ہوا ملا جسے اُٹھا کر میں نے دیکھا تو وہ پیسوں سے بھرا ہوا تھا۔اُس میں دس دس ہزار فرانک کے کئی نوٹ تھے۔کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ میں حسب معمول ریڈیو بھی تھا۔( ریڈیو وہاں کے لوگوں کا رواج ہے۔ہاتھ میں رکھتے ہیں ) خاص طور پر گاؤں کے لوگ خبریں یا مختلف پروگرام بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں۔کہتے ہیں عین اُس وقت ریڈیو پر اعلان ہورہا تھا کہ کسی کا پیسوں سے بھر ا لفافہ کہیں گر گیا ہے۔اگر کسی کو ملے ( یہ نشانیاں بتائیں) تو وہ ریڈیو اسٹیشن آ کر دے دے۔عثمان صاحب کہتے ہیں کہ میرے دوست میرے پیچھے پڑ گئے کہ اس کو کھولو اور پیسے تقسیم کرتے ہیں۔تو میں نے اُن سے کہا کہ نہیں ، ہرگز نہیں۔یہ میرے ربّ العزت کا جواب ہے کہ جماعت احمد یہ سچی ہے۔کیونکہ رات میں نے دعا کی تھی اور خدا نے میری دعا قبول کر کے میرے ایمان کواحمد یت پر مضبوط کیا۔بی رقم امانت ہے اسے