سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 324

سبیل الرشاد جلد چہارم 324 ہے کہ ہماری بات مان لی جائے اور لڑکیوں کے معاملے میں خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ اپنی لڑکیاں غیر احمدی کو نہیں دینیں۔۔۔۔۔۔۔۔پر اعجاز احمد صاحب مبلغ سلسلہ بورکینا فاسو لکھتے ہیں کہ شہر دو گو کے ایک نو مبائع پارے اور میں صاحب ہیں جو کہ مستری کا کام کرتے ہیں۔انہوں نے دو شادیاں کی ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی ہمارے لوکل مشنری زویرے اسماعیل سے کر دی۔احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے وہ وہابی تھے۔انہوں نے اپنی مسجد میں جا کر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ جماعت احمدیہ کے مشنری سے کر دیا ہے اور ان کی بیٹی کا نکاح بھی احمد یہ مسجد میں ہی ہوگا۔اس لئے وہ سب کو دعوت دینے کے لئے آئے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ وہ امام مہدی جس کا انتظار ہے آچکے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔جب مولویوں نے اُن کی یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ تو نے اپنی بیٹی کا رشتہ کافر سے کر دیا ہے۔اس لئے تو بہ کرو اور اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں نہ کرو۔ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں کو وہاں افریقہ میں کوئی پو چھا نہیں کرتا تھا لیکن اب کئی سالوں سے، کچھ عرصے سے مختلف عرب ممالک، مسلم ممالک اپنے لوگوں کو بھیجتے ہیں جن کا صرف اس بات پر زور ہوتا ہے کہ احمدی کا فر ہیں، جماعت میں شامل نہ ہوں اور اکثر جگہ کافی مہم چل رہی ہے۔لیکن بہر حال اس سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔تو کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا اس لئے تو بہ کرو اور اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں نہ کرو۔اس پر ادریس صاحب وہاں سے چلے آئے اور کچھ عرصے بعد جب اُن کی بیٹی کی شادی ہوگئی تو اُن کی دوسری بیوی کے والدین نے اپنی بیٹی کو گھر بلا لیا۔بیٹی کو انہوں نے کچھ نہیں بتایا کہ کس سلسلہ میں انہوں نے اس کو گھر بلایا ہے۔کیونکہ لڑکی کے والدین اور مولوی صاحبان آپس میں بات کر چکے تھے۔اس لئے انہوں نے اور میں صاحب کو بلا یا اور کہا کہ ہماری تین شرائط ہیں۔تم سب کے سامنے یہ اقرار کرو کہ نعوذ باللہ امام مہدی علیہ السلام جھوٹے ہیں۔نمبر دو اعلان کرو کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ آئیں گے۔نمبر تین یہ کہ تم نے اپنی بیٹی جو احمد یہ مشنری کو دی ہے، اُس کو واپس بلا ؤ۔یہ تین شرطیں پوری کرو گے تو تمہیں تمہاری بیوی واپس دے دیں گے۔اس پر اور میں صاحب نے سبحان اللہ کہا اور واضح طور پر بتا دیا کہ وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے اور کہا کہ وہ حق کو تسلیم کر چکے ہیں اور اس کے لئے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں وہ تیار ہیں۔اس کے بعد اور لیں صاحب نے بیوی کے والدین سے بات کرنا چاہی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ جو ہمارے مولویوں کا فیصلہ ہے وہی ہمارا فیصلہ ہے۔اس پر وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر گھر چلے آئے لیکن احمدیت پر قائم رہے۔مفیض الرحمن صاحب مبلغ سلسلہ بوسنیا لکھتے ہیں کہ ایک دوست سماجو مفتی صاحب Samajo) (Muftich کو جب جماعت کا پیغام پہنچا تو موصوف جماعتی سینٹر میں آئے اور جماعتی تعلیم کے بارے میں استفسار کرتے رہے۔دورانِ گفتگو ان کی نظر ( وہاں میری تصویر لگی ہوئی تھی ) اُس پر پڑتی تھی۔انہوں نے