سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 301
سبیل الرشاد جلد چہارم 301 صف دوم کے انصار ڈیوٹیوں کے دوران اپنے خدام کو نہ بھولیں " حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 22 اپریل 2011ء میں فرمایا۔یہ بھی بتا دوں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے بہت سے لوگ ہیں اور وہ اگلی نسلوں میں بھی یہ روح پھونک رہے ہیں۔میں نے ایک دفعہ پاکستان کے احمدیوں کے لئے اس فکر کا اظہار کیا تھا کہ لاہور کے واقعہ کے بعد خدام یا شاید صنف دوم کے انصار بھی جو جماعتی عمارتوں اور مساجد میں ڈیوٹی دیتے ہیں، اُن میں سے بعض کے متعلق یہ اطلاع ہے کہ ایک لمبا عرصہ ڈیوٹی دینے کی وجہ سے اُن کی طرف سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے یا عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے، اس لئے اس طرف توجہ کی ضرورت ہے یا نظام کو کچھ اور طریقے سے اس بارہ میں سوچنے کی ضرورت ہے۔تو یہ بات جب صدر خدام الاحمدیہ پاکستان نے اپنے خدام تک پہنچائی تو مجھے خدام کی طرف سے، پاکستان کے خدام کی طرف سے اخلاص و وفا سے بھرے ہوئے کئی خطوط آئے کہ ہم اپنے عہد کی نئے سرے سے تجدید کرتے ہیں۔نہ ہم پہلے تھکے تھے اور نہ انشاءاللہ آئندہ بھی ایسی سوچ پیدا کریں گے کہ جماعتی ڈیوٹیاں ہمارے لئے کوئی بوجھ بن جائیں۔آپ بے فکر رہیں۔اسی طرح عورتوں کے خطوط آئے کہ ہمارے بھائی یا خاوند یا بیٹے اپنے کاموں سے آتے ہیں تو فوراً جماعتی ڈیوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور ہم بخوشی انہیں رخصت کرتی ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکیلے رہ کر بھی کسی قسم کا خوف نہیں۔پس یہ اخلاص و وفا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے جوشِ ایمان کی وجہ سے ہے۔اس بارہ میں یہ بھی یا درکھیں کہ ان فرائض اور ڈیوٹیوں کے دوران اپنے خدا کو کبھی نہ بھولیں۔نمازیں وقت پر ادا ہوں اور ڈیوٹی کے دوران ذکر الہی اور دعاؤں سے اپنی زبانوں کو تر رکھیں۔ہماری سب سے بڑی طاقت خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہمیں جو مددملنی ہے وہ خدا تعالیٰ سے ملنی ہے۔ہماری تو معمولی سی کوشش ہے جو اُس کے حکم کے ماتحت ہم کر رہے ہیں۔جو کرنا ہے وہ تو اصل میں خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ سے چمٹ جائیں گے تو خدا خود دشمن سے بدلہ لے گا۔اُس کے ہاتھ کو روکے گا۔پس دعاؤں میں کبھی سست نہ ہوں اور پھر ان عبادتوں اور دعاؤں اور ذکر الہی کا اثر عام حالت میں بھی عملی طور پر ہر ایک کی شخصیت سے ظاہر ہورہا ہو تو تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے معیار کو پاسکتے ہیں" خطبات مسرور جلد 9 صفحہ (203)