سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 293

سبیل الرشاد جلد چہارم 293 چائے پینے کے بعد کچھ دیر وہ بیٹھے رہے، باتیں کرتے رہے پھر کہنے لگے، برخوردار! ہمیں دیر ہوگئی ہے اجازت دو تا کہ ہم جائیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے بتا ئیں تو سہی کہ آپ کون ہیں تا میں اپنے والد صاحب کو بتا سکوں۔میری اس عرض پر وہ دونوں خفیف سے مسکرائے۔کالی داڑھی والے نے کہا کہ میرا نام محمد ہے اور ان کا نام احمد ہے۔میں نے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا کہ پھر مجھے کچھ بتائیں۔انہوں نے عربی زبان میں ایک کلمہ کہا جو مجھے یاد نہیں مگر اس کا مفہوم جو اس وقت میرے ذہن میں تھا وہ یہی تھا کہ تیری زندگی کے تھوڑے دن بہت آرام سے گزریں گے۔پھر میں نے مصافحہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے باپ کو میرا السلام علیکم کہ دینا۔وہ باہر نکل گئے۔میں نے ان کو رخصت کیا۔ان کے جانے کے بعد خواب میں ہی میرے والد صاحب آگئے۔میں نے سارا واقعہ سنایا۔وہ فورا باہر نکل گئے۔اتنے میں میری نیند کھل گئی جس کا باعث یہ ہوا کہ میرے باپ نے مجھے آواز دی کہ اٹھ کر نماز پڑھو۔کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کو یہ خواب سنائی۔اس دن جمعہ تھا۔جمعہ کے وقت میں نے منشی احمد دین صاحب اپیل نولیس کو یہ خواب سنائی انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں خود لکھ کر یا مجھ سے لکھوا کر بھیج دی اور چند روز بعد کہا کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جلسے پر اس لڑکے کو ساتھ لے آؤ۔چھوٹی عمر تھی ان کی ، خواب دکھائی تھی اللہ تعالیٰ نے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس لڑکے کو ساتھ لے آؤ۔چنانچہ جلسے پر میں گیا۔جب ہم مسجد مبارک میں گئے تو دو تین بزرگ بیٹھے تھے۔ہم نے ان سے مصافحہ کیا ، اتنے میں حضرت اقدس مسیح موعود تشریف لے آئے۔ہم کھڑے ہو گئے مصافحہ کیا پھر حضور بیٹھ گئے۔منشی احمد دین صاحب نے عرض کی کہ حضور ! یہ وہ لڑکا ہے جسے خواب آئی تھی۔حضور نے مجھے گود میں بٹھا لیا اور فرمایا کہ وہ خواب سناؤ۔چنانچہ میں نے وہ خواب سنائی۔پھر اندر سے کھانا آیا۔حضور ر نے کھایا اور دوستوں نے بھی کھایا۔اور جب حضرت اقدس کھانا کھا چکے تو تبرک ہمارے درمیان تقسیم کر دیا۔ہم نے وہاں بیٹھے ہی کھایا۔میرے والد صاحب نے عرض کی کہ مجھے کوئی متبرک دیں۔اللہ تعالیٰ اس طرح بھی بچوں کو خوا ہیں دکھاتا ہے۔اس زمانہ میں بھی بعض چھوٹی عمر کے بچے خوا ہیں دیکھتے ہیں۔حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ابن مکرم شیخ بابو جمال الدین صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں جب دسویں کلاس میں پڑھتا تھا تو حضرت اقدس کے مکان کے ارد گرد ہمارا پہرہ ہوا کرتا تھا۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ہم پہرہ دے ہی رہے تھے کہ ہم نے حضرت اقدس کی وفات کی خبر سنی۔حضور کے زمانہ میں جب ہم پہرہ دیتے تھے تو ہمارے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھی۔میاں فیروز دین صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ جو نانبائی ہے یہ روٹیاں پر الیتا ہے۔حضور خاموش