سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 267

سبیل الرشاد جلد چہارم 267 کے فرق کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کیا فرق ہے۔اگر ہمارے اندر کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔علاوہ ایک نظام کے ہمارے عمل میں بھی ایک واضح فرق ہونا چاہئے۔اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعتی نظام اور تمام ذیلی تنظیموں کو اپنے دائرے میں فعال تربیتی پروگرام بنانے کی ضرورت ہے۔اگر صرف دولت کمانے اور دنیاوی آسائشوں اور چمک دمک کے حصول میں زندگیاں گزار دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکر گزاری ہے۔جن میں سے سب سے بڑی نعمت جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے وہ حضرت مسیح موعود کو قبول کرنا ہے، ان کی بیعت میں آنا ہے۔لیتا رہے" اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو حقیقی احمدی بننے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 198-199 ) انصار اللہ نے اپنی اصلاح کے ساتھ اپنی بیوی بچوں کی بھی اصلاح کرنی ہے دورہ آئر لینڈ کے دوران 19 ستمبر 2010 ء کو اراکین نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ آئر لینڈ کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔جس میں حضور انور نے صدر صاحب انصار اللہ کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ صف دوم کے نائب صدر انصار اللہ کا بھی تقرر کریں۔قائد تعلیم وتربیت نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نماز فجر اور نماز عشاء کے بعد درس کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن اس میں حاضری کم ہوتی ہے۔حضورانور نے فرمایا: انصار کوتوجہ دلائیں کہ اس میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔توجہ دلا کر دیکھا کریں کہ نتیجہ نکل رہا ہے یا نہیں۔حضور انور نے فرمایا: انصار اگر اپنی نمازوں پر حاضری ٹھیک کر لیں تو بچوں اور خدام کی حاضری خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔انصار اپنے نوجوان بچوں اور چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں۔جو آپ کے صدر صاحب اپنے بچوں کو نمازوں پر لاتے ہیں تو یہی رویہ ہر ناصر کا ہونا چاہئے۔نماز عشاء پر انصار کی سو فیصد حاضری ہونی چاہئے۔انصار اللہ نے اپنی اصلاح کے ساتھ اپنی بیوی بچوں کی بھی اصلاح کرنی ہے۔حضور انور نے فرمایا: اپنا دینی علم خود بڑھائیں۔جو نماز سینٹر سے دور رہتے ہیں تو وہ اپنے گھروں میں با جماعت نماز اور درس کا انتظام کریں۔آپ سب گھروں میں مستعد ہو جائیں تو تربیت کا کام بھی ہو سکتا ہے۔ہو