سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 262
262 سبیل الرشاد جلد چهارم سمجھتے ہو کہ کوئی بات نہیں ، بات کرنی ہے کر لی۔زبان کا مزا لینا ہے لے لیا۔یا کسی کے خلاف زہر اگلنا ہے اگل دیا۔لیکن یاد رکھو یہ ایسا مکروہ فعل ہے ایسی مکروہ چیز ہے جیسے تم نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھالیا۔اور کون ہے جو اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے کراہت نہ کرے۔غیبت یہی ہے کہ کسی کی برائی اس کے پیچھے بیان کی جائے۔پس اگر اس شخص کی اصلاح چاہتے ہو جس کے بارہ میں تمہیں کوئی شکایت ہے تو علیحدگی میں اسے سمجھاؤ تا کہ وہ اپنی اصلاح کرلے اور پھر بھی اگر نہ سمجھے تو پھر اصلاح کے لئے متعلقہ عہد یدار ہیں، نظام جماعت ہے، امیر جماعت ہے اور اگر کسی وجہ سے کوئی مصلحت آڑے آ رہی ہے یا تسلی نہیں ہے تو مجھ تک پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔بعض لوگ مجھے شکایت کرتے ہیں لیکن ان شکایتوں سے صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ اصلاح کی بجائے اپنے دل کا غبار نکال رہے ہیں اور پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ شکایت کرنے والے اپنا نام نہیں لکھتے صرف ایک احمدی یا ایک ہمدردلکھ دیتے ہیں نیچے یا پھر ایسا نام اور پتہ لکھتے ہیں جس کا وجود ہی نہیں ہوتا جو بالکل غلط ہوتا ہے۔ایسے لوگ سوائے میرے دل میں کسی کے خلاف گرہ پیدا کرنے کی کوشش کے اور کچھ نہیں کر رہے ہوتے۔اور اس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوتے۔کیونکہ نام چھپانے سے ایک تو صاف پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی ہمدرد نہیں ہے بلکہ صرف کسی دوسرے کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔عموماً تو ایسے خطوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور میرا کام تو ویسے بھی یہ ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پہلے تحقیق کرواؤں، پتہ کروں اور جس کا نام پتہ ہی نہیں اس کی تحقیق بھی نہیں ہوسکتی۔لیکن اگر کسی کو سزا ہو بھی تو میرے دل میں اس کے خلاف نفرت کبھی نہیں پیدا ہوئی ، نہ کوئی گرہ پیدا ہوتی ہے بلکہ دکھ ہوتا ہے کہ ایک احمدی کو کسی بھی وجہ سے سزا ہوئی ہے۔بہر حال ایک احمدی کو ہمیشہ یہ یا درکھنا چاہئے کہ للہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاتَّقُوا اللَّهَ کہ تقویٰ اختیار کرو۔إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِیم کہ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جن کو اس قسم کی بدظنیوں کی یا تجس کی یا غیبت کی عادت ہے اپنے دلوں کو ٹو لیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف کریں۔اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احساس ندامت لے کر میرے پاس آؤ گے تو میں تمہاری توبہ قبول کروں گا اور تمہارے ساتھ رحم کا سلوک کروں گا" خطبات مسر در جلد 8 صفحہ 74-75) تمام ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام کو روحانی خزائن سے فیض اٹھانے کے پروگرام بنانے چاہئیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 19 مارچ 2010ء کو خطبہ جمعہ میں روحانی خزائن سے فیض اٹھانے کی ذیلی تنظیموں کو یوں تلقین فرمائی۔