سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 247

247 سبیل الرشاد جلد چہارم کے ایسے لوگ قومی مجرم بن جاتے ہیں۔اگر قوم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو وہ ان لوگوں کے عمل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جن کے سپرد یہ ذمہ داری لگائی ہوتی ہے۔اگر ان کی نسل میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ان کی نگرانی اور دعا میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔پس جب انصار یہ کہتے ہیں کہ الحمد للہ ہم مجلس انصار اللہ کے ممبر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس مجلس کے ممبر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں مددگاروں کی مجلس ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام اور آنحضور کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے ہر قسم کی عملی مدد کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اور عملی مد کا پہلا اور بنیادی قدم بلکہ ایسا قدم جسے خدا تعالیٰ نے فرائض میں شامل فرمایا ہے نماز ہے اور عبادت کے یہی عملی نمونے جب گھروں میں قائم ہوتے ہیں، نماز کے قیام کی گھروں میں بات ہوتی ہے تو نئی نسل بھی اس کی اہمیت اپنے ذہنوں میں بٹھا لیتی ہے اور اس طرح ہم اپنی نسلوں کی تربیت انہی بنیادوں پر کر رہے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا اہم کردار ہے جو خاموشی سے گھر کا سر براہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔پس ہمیشہ یا درکھیں کہ انصار اللہ کی کمزوری سے نسلوں میں کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک بچے نے اُس بزرگ کو صحیح جواب دیا تھا کہ اگر میں کیچڑ میں پھلا تو میرے پھسلنے سے مجھے چوٹ لگے گی لیکن اگر آپ پھلے تو پوری قوم کو لے کر ڈوب جائیں گے۔تو اُس بزرگ نے بھی اس کا صرف ظاہری مطلب نہیں لیا بلکہ اُن کی سوچ اس بات کی گہرائی تک گئی کہ بچہ صحیح کہہ رہا ہے۔میرے کئی شاگرد ہیں۔کئی ایسے لوگ ہیں جو میرے پیچھے چلنے والے ہیں۔میری زندگی کے ہر عمل میں ذرا سی لغزش بھی میرے پیچھے چلنے والوں کی دنیا و آخرت خراب کر سکتی ہے۔پس یہ سوچ ہے جو انصار اللہ کے ہر ممبر کو ہر ناصر کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم حقیقی انصار اللہ ہیں۔ورنہ مجلس انصار اللہ کی ممبر شپ لے لینا یا اُس میں شامل ہو جانا یا چالیس سال کی عمر کے بعد طوعاً و کرھا یا مجبوری سے اس میں شامل ہو جانا یا جماعتی قواعد کی روح سے اس کا ممبر بننا یا اپنی آمد میں سے کچھ چندہ مجلس دے دینا یا چیرٹی واک میں حصہ لے لینا یا اجتماع پر چند پروگراموں میں حصہ لے لینا یا اجتماع میں دو دن کے لئے شامل ہو جانا آپ کو انصار اللہ نہیں بنا سکتا۔انصار اللہ وہ ہیں جو دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کیا حکم دیئے ہیں۔ایک مومن کی حیثیت سے ہمارے کیا کیا فرائض ہیں اور پھر ہم نے ان فرائض پر خالص خدا تعالیٰ کی رضا کی حصول کے لئے کس طرح عمل کرنا ہے۔کس طرح ان کو بجالانے کے لئے سعی اور کوشش کرنی ہے۔پس یہ جو عبادتوں اور نمازوں کی طرف توجہ دلانی ہے یہ بہت اہم چیز ہے۔انصار اللہ میں سے تو سو فیصد کو اس طرف توجہ ہونی چاہئے۔دینی علوم کے حصول کی طرف توجہ کریں اس کے علاوہ میں کچھ اور باتوں کی طرف بھی آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اُن میں سے ایک یہ ہے