سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 206
سبیل الرشاد جلد چہارم 206 پیغام سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بر موقع صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی 27 رمئی 2008 ء میرے پیارے عزیز ! احباب جماعت السلام عليكم ورحمة الله وبركاته آج خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہو رہے ہیں۔یہ دن ہمیں سو سال سے زائد عرصے میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کی تاریخ اور اس وقت کی یاد بھی دلاتا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مارچ 1889ء میں اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نے اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر ایک پاک جماعت کے قیام کا اعلان کیا۔آپ کا مشن اور اس جماعت کے قیام کا مقصد خدا اور بندے میں تعلق پیدا کرنا، بنی نوع انسان کو خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بنے کی تعلیم دینا اور اس کے لئے کوشش کرنا، تمام اقوام عالم کو امت واحدہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا، انسان کو انسان کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا تھا۔وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے زمانے کے امام اور مسیح و مہدی کے لقب سے ملقب کر کے بھیجا تھا۔قیام جماعت اور آغاز بیعت 1889ء سے 1908 ء تک تقریباً انیس سال اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے اپنے مشن کو تمام تر مخالفتوں اور نا مساعد حالات کے باوجود اس تیزی سے لے کر آگے بڑھا کہ ہر مخالف جو بھی اس جری اللہ کے مقابلہ پر آیا ذلت ورسوائی کا منہ دیکھنے والا بنا۔آخر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق کہ ہر انسان جو اس فانی دنیا میں آیا اس نے آخر کو اس دنیا کو چھوڑنا ہے اور وہ شخص جواللہ کا خاص بندہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق تھا، وہ تو اپنے آقا کی سنت کی پیروی میں رفیق اعلی سے ملنے کے لئے ہر وقت بے چین رہتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو جسے امام آخر الزمان بنا کر بھیجا تھا، واپسی کے اشارے دیتے ہوئے یہ تسلی دی کہ گو تیرا وقت اب قریب ہے لیکن چونکہ تجھے میں نے اپنے اعلان کے مطابق امام آخر الزمان بنایا ہے، اس لئے اے میرے پیارے! اے وہ شخص جو میری توحید کے قیام اور میرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت تمام دنیا میں قائم کرنے کا در درکھتا ہے تو یہ فکر نہ کر کہ تیرے مرنے کے بعد تیرے اس کام کی تکمیل کی انتہا ئیں کس طرح حاصل ہوں گی۔تو یا درکھ کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جسے میری تائید حاصل ہے۔اب خلافت علی منہاج النبوۃ تا قیامت قائم ہونی ہے، اس لئے تیرے بعد یہی نظام خلافت ہے جس کے ذریعہ سے میں تمام دنیا میں اپنی آخری شریعت کے قیام و استحکام کا نظام جاری کروں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی آپ کو تسلی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: