سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 205

205 سبیل الرشاد جلد چہارم حضور انور نے مجلس عاملہ انصار اللہ کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے اپنے دفاتر کی تعمیر مکمل کرنے کے لئے مدد کی درخواست کی ہے۔آپ اس تعمیر کو خود مکمل کریں۔زیادہ سے زیادہ آپ کو جو سنٹرل ریز رو ہے وہ آپ کو دیا جاسکتا ہے۔حضور انور نے فرمایا: انصار اللہ کا مطلب ہے " اللہ کے مددگار " اور انصار اللہ کے اراکین جہاں اپنی عمر کے لحاظ سے تجربہ کار ہوتے ہیں وہاں بوجہ تجر بہ اپنی تنخواہوں میں بھی بڑھ کے ہوتے ہیں۔اس لئے آپ لوگ اخراجات برداشت کریں۔جماعت سب کی تربیت نہیں کر سکتی اس لئے ذیلی تنظیمیں بنی ہیں تا کہ جوان، جوانوں کو سنبھالیں ، لجنہ لجنہ کو سنبھالے اور بوڑھے بوڑھوں کی تربیت کریں۔نو مبائعین کو بھی تنظیموں میں شامل کریں۔ان سے چندہ لیں خواہ ایک نائر ا ہی لیں دو مہینے بعد یا تین مہینے بعد۔اگر ان کا ایمان مضبوط ہے تو پھر مالی قربانی میں بھی مضبوط کریں۔مالی قربانی سے ایمان پختہ ہوگا۔آپ تجربہ کار لوگ ہیں۔آپ آج جو مثال قائم کریں گے کل کو وہی نمونہ ٹھہرے گی " الفضل انٹر نیشنل 6 جون 2008ء) ذیلی تنظیمیں اپنے معاملات میں براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں ہت تنظیم کی ذمہ داری صرف اپنی متعلقہ تنظیم کی حد تک ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 25 اپریل 2008 ء کے خطبہ جمعہ کے آخر میں انتظامی امور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔میں ایک انتظامی بات بھی یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں جو ذیلی تنظیموں سے متعلق ہے۔یعنی انصار، خدام اور لجنہ۔ان ذیلی تنظیموں کو یادرکھنا چاہئے کہ ہر تنظیم کی ذمہ داری صرف اپنی متعلقہ تنظیم کی حد تک ہے۔انصار اللہ نہ لجنہ اماءاللہ، نہ خدام الاحمدیہ کے معاملات میں دخل دے سکتے ہیں اور نہ ہی جماعتی پروگراموں اور جماعتی معاملات میں۔اسی طرح خدام اور لجنہ صرف اپنے دائرہ کار میں محدود ہیں اور جماعتی نظام ان تمام تنظیموں سے بالا ہے۔یہ بات بھی واضح ہو کہ ذیلی تنظیمیں اپنے معاملات میں براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں۔لیکن اپنے پروگرام بناتے وقت امیر سے مشورہ کرلیا کریں تا کہ جماعتی پروگراموں کے ساتھ ٹکراؤ نہ ہو۔دوسرے یا درکھیں کہ ذیلی تنظیم کا ہر مہر جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے جماعتی نظام کا پابند ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو محبت اور پیار سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ذاتی اناؤں سے بچائے ، خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول آپ کا مقصد ہو۔آمین" (خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 174 )