سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 199
سبیل الرشاد جلد چہارم 199 ذیلی تنظیمیں ایسے پروگرام بنا ئیں جس سے قربانیوں کے معیار بلند ہوں حضور انور نے 4 جنوری 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" جب تک عہدیداران کے اپنے معیار قربانی نہیں بڑھیں گے ان کی بات کا اثر نہیں ہوگا۔جہاں عہدیداران اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں وہاں کی رپورٹس بتا دیتی ہیں کہ حق ادا ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے کارکنان بھی ہیں جو اپنا سب کچھ بھول جاتے ہیں، بیوی بچوں کو بھی بھول جاتے ہیں ، اپنے نفس کے حق بھی ادا نہیں کرتے۔صبح اپنے کام پر جاتے ہیں اور وہاں سے شام کو سیدھے جماعتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔انہیں کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا اور تمہارے بیوی بچوں کا بھی تم پر حق رکھا ہے۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں۔بہت محنت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ یہ جو محنت کرنے والے ہیں یہ بھی صحیح طریق پر محنت نہیں کر رہے ہوتے۔مثلاً چندوں کے معاملے میں۔جو چندہ دینے والے مخلصین ہیں ہر تحریک کی کمی پورا کرنے کے لئے انہیں کو بار بار کہا جاتا ہے۔جب کہ کئی دفعہ کہا گیا ہے کہ نئے شامل ہونے والوں کو بھی شامل کریں اور تعداد بڑھائیں۔ہر ایک میں قربانی کی روح پیدا کریں۔اگر شعبہ تربیت اور مال یا وقف جدید، تحریک جدید مشتر کہ کوشش کریں تو کمزوروں کو بھی ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔شروع میں بعض وقتیں پیش آئیں گی لیکن دعا اور صبر سے یہ روکیں اور مشکلات بھی دور ہو جائیں گی انشاء اللہ۔بعض لوگ لکھتے بھی ہیں اور زبانی بھی موقع ملے تو کہہ دیتے ہیں کہ بعض افراد جماعت پوری طرح تعاون نہیں کرتے ، پروگراموں میں حصہ نہیں لیتے تو میں انہیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ تمہارا کام یہ ہے کہ مسلسل دعا اور صبر سے کوشش کئے جاؤ۔جو احمدی ہے اس میں کوئی نہ کوئی نیک فطرت کا حصہ ہے جس کی وجہ سے وہ احمدیت پر قائم ہے۔پس کمزوروں کو ساتھ ملا کر چلنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔اس لئے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اب جبکہ ہم خلافت کی نئی صدی میں چند ماہ تک داخل ہونے والے ہیں۔جماعتی نظام جو مختلف شہروں اور ملکوں میں قائم ہیں اور ذیلی تنظیمیں بھی ایسے پروگرام بنا ئیں جس سے ہماری قربانیوں کے ہر قسم کے معیار بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی تڑپ ہر ایک میں پیدا ہو جائے۔ہر احمدی بھی ، نئے بھی اور پرانے بھی اپنے جائزے لیں کہ کیا بہترین تحفہ ہم شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے جا رہے ہیں" (خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 6-7)