سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 191
191 سبیل الرشاد جلد چہارم نہیں آتے۔بعض بلا وجہ کی سختی کرتے ہیں، گزشتہ سال بھی شکایات آتی رہی تھیں۔اللہ تعالیٰ اس جلسے کو با برکت فرمائے اور ہر ایک کو ہر لحاظ سے اپنی حفاظت میں رکھے اور کوئی ایسی بات نہ ہو جو کسی کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنے اور جیسا کہ میں نے کہا عمومی طور پر سب شامل ہونے والوں اور ڈیوٹی والوں کو اپنے ماحول پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ یہ سکیورٹی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔جب ہر ایک چوکس ہوگا تو شرارت کرنے والوں کو آسانی سے شرارت کا موقع نہیں ملتا۔لیکن اس بارے میں ایک بات یاد رکھیں کہ اگر کوئی مشکوک مرد یا عورت کو دیکھیں تو اس پر نظر رکھیں اور حفاظت کے شعبہ کو اطلاع کریں۔خود براہ راست اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور سیکورٹی والوں کے آنے تک اس پر نظر رکھیں۔ہر ایک خود بھی اس بات کی پابندی کرے کہ اپنے شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں بلکہ سامنے رکھیں اور کارکنان کی طرف سے شناختی کارڈ دکھانے کا جب بھی مطالبہ ہو تو فوراً ان کو دکھا دیں" خطبات مسر و ر جلد 5 صفحہ 314-315) جلسوں اور اجتماعات پر ڈیوٹی دینے والے عہدیداران اپنے اندر برداشت پیدا کرنے کی کوشش کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31 اگست 2007ء کو جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر خطبہ جمعہ میں عہد یداران و کارکنان کو یوں مخاطب ہوئے۔" ان دنوں میں جبکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جمع ہوتے ہیں ،اس کے آگے جھکتے ہوئے اس سے دعائیں مانگ رہے ہیں ، کامل ایمان کے ساتھ ذکر الہی میں مشغول ہیں، کامل فرمانبرداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چل رہے ہیں تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بھی موقع پر نظام جماعت کی فرمانبرداری سے باہر ہوں۔ایک طرف تو یہ کوشش ہو کہ ہم آسمان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں لکھے جائیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے قائم کردہ نظام جماعت کی اطاعت سے باہر جارہے ہوں۔پس یہ دو عملیاں نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے کبھی نہیں دکھا سکتے اور نہ کبھی دکھاتے ہیں۔ان دنوں میں دلوں کے اس میل کو بھی دعاؤں کے ذریعہ سے، اصلاح کے ذریعہ سے دھونے کا موقع ملتا ہے۔اگر اصلاح کی غرض سے اس جلسے میں شامل ہوئے ہیں اور کوئی میلہ سمجھ کر شامل نہیں ہوئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ جلسہ کوئی میلہ نہیں ہے، تو یقیناً پھر دلوں کے میل بھی دھوئیں گے۔بعض دفعہ روز مرہ کی زندگی میں بھی اور جلسہ کے دنوں میں بھی ایک عام احمدی کی رنجشیں اور جھگڑے عہدیداران سے بھی ہو جاتے ہیں۔تو ایسی صورت میں اگر یہ ذہن میں ہو کہ