سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 188
188 سبیل الرشاد جلد چہارم کرنی چاہئے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 6) نیز فرماتے ہیں : ” نماز سنوار کر پڑھو۔خدا جو یہاں ہے وہ وہاں بھی ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ جب تم یہاں ہو تو تمہارے دلوں میں رقت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں جاؤ تو بے خوف اور نڈر ہو جاؤ نہیں بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہئے۔ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو کہ اس سے خدا راضی ہو گا یا ناراض۔نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔خدا تعالیٰ سے مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغی کی طرح ٹھونگیں مار لیں بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں۔یہ کچھ نہیں۔نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔اس کی نماز ہرگز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصد کو مدنظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔کھڑے ہو اس طرح کہ تمہاری صورت صاف بتا دے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمابرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعا کرو"۔پس حضرت مسیح موعود نے نماز کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور میں آپ کو ذکر فان الذِّكْرَ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذاریات: 56) کے تحت یاد دہانی کرواتا ہوں کہ انصار اللہ نے نمازوں کے قیام کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔خود بھی پنجوقتہ نمازوں پر قائم ہوں اور اپنی بیویوں اور اولا دوں کو بھی اس کا عادی بنائیں۔پانچوں نماز میں وقت پر ادا کریں اور انہیں ہرگز ضائع نہ کریں۔نمازیں بار بار پڑھیں اور اس خیال سے پڑھیں کہ آپ ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑے ہیں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے۔یہ آپ کی نسلوں کی روحانی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔دنیا کے گند اور آلائشوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔یہ سیئات کو دور کرتی ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 247 248 دوسری اہم ذمہ داری انصار اللہ کی یہ ہے کہ وہ خود بھی قرآن کریم سیکھیں اور اپنی اولادوں کو بھی سکھائیں۔اور پھر ہر گھر میں تلاوت قرآن کا اہتمام اور التزام ہو۔اگر آپ خود روزانہ اس کی تلاوت کریں گے تو آپ کے بچے اس سے نیک اثر لیتے ہوئے تلاوت کے عادی بن جائیں گے۔میں نے واقفین نو بچوں کو یہ ہدایت کی ہوئی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دو رکوع کی تلاوت کیا کریں۔آپ نے ان واقفین نو کی تربیت کرنی ہے تو آپ کو اپنا عملی نمونہ ان کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔روزانہ کچھ رکوع تلاوت ضرور کیا کریں کوئی وقت اس کے لئے مقرر کریں سب سے اچھا وقت تو فجر کی نماز کے بعد ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ فجر کے بعد اس کا التزام ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود نے بھی تلاوت قرآن کریم کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے