سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 180
180 سبیل الرشاد جلد چہارم ضرورت نہیں رہنی چاہئے۔نماز بنیادی چیز ہے جو ہر نو مبائع کو پڑھنی چاہئے۔سب سے پہلے انہیں نماز پڑھنی ہر اور قرآن کریم پڑھنا سکھایا جائے۔قرآن مکمل ہونے پر آمین کی طرز پر تقریب کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، اس سے ان کا حوصلہ بڑھے گا۔جن نو مبائعین کو نماز اور قرآن کریم پڑھنا آ گیا ہے انہیں چند قرآنی سورتیں یاد کروائیں۔پھر قرآن کریم کے ترجمہ سکھانے کی طرف توجہ دیں اور اس طرح انہیں باعمل احمدی بنا ئیں۔داعیان کے سیمینار کی طرز کے ریفریشر کورسز کروائیں ، ان کی مشکلا ت سنیں اور ان کو حل کرنے کی کوشش کریں نیز انہیں اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع دیں تا کہ دوسرے داعیان بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھا ئیں۔لٹریچر کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بارہ میں جرمنی کے حوالہ سے ساری دنیا کو ہدایات دے چکا ہوں، تین ملکوں کی طرف سے اس بارہ میں سکیمیں بھی بن کر آ گئی ہیں کہ آپ کی ہدایات کی روشنی میں ہم نے اس طرح کام کرنے کا پروگرم بنایا ہے۔آپ جو براہ راست میرے مخاطب ہیں آپ بھی کام کر کے بتا ئیں۔چیرٹی واک charity walks) کے سلسلہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اصولی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ جن علاقوں میں لوگ اسلام اور جماعت کے بارہ میں مشکوک ہیں وہاں ایسے پروگرام بنائیں۔نیز جن علاقوں سے رقم اکٹھی ہو ، وہاں کی مقامی چیرٹی تنظیم کو بھی اس رقم کا کم از کم نصف ضرور دیں اس بات کو یہ لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔چیرٹی واک کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ ایک بات جس میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کوئی احمدی عورت یا بارہ سال سے بڑی احمدی بچی ٹریک سوٹ، ٹی شرٹ وغیرہ نہ پہنے اور بغیر پردہ کے نہ ہو نیز مخلوط تقریبات میں حصہ نہ لے۔اسی سلسلہ میں حضور انور نے عورتوں سے ہاتھ ملانے کی ممانعت کے بارہ میں ہدایات سے نوازا۔احمدی بچوں کی دنیوی تعلیم کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا کہ احمدی بچوں کو زیادہ سے زیادہ ریسرچ کے میدانوں میں آنا چاہئے اور اگلے پندرہ بیس سال میں اس تحقیق کے میدان میں احمدیوں کا بہت اچھا تناسب ہونا چاہئے تا کہ یہ ملک احمدیوں کو اپنے ملکوں میں رکھنے پر مجبور ہو جائیں۔محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا کہ فزکس، کیمسٹری اور میڈیکل کے میدانوں میں بھی احمدیوں کو الفضل انٹرنیشنل 19 جنوری 2007ء) آگے آنا چاہئے۔