سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 150
150 سبیل الرشاد جلد چہارم گے، رابطہ (Contact) نہیں کریں گے تو آپ کو کیا پتہ کس کے دل میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ایک ٹیم بنا ئیں جو کام کرنے والی ہو۔فرمایا آپ نے جو سکیم بنائی ہے وہ اچھی ہے۔اب مسلسل رابطہ اور تعلق قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔فرمایا جس کام کاFollow Up نہ ہو، فیڈ بیک نہ ہو اس کا نتیجہ نہیں نکلتا۔الفضل انٹر نیشنل 16 جون 2006ء) مجھے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو کام نہ کر سکیں اراکین نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ نیوزی لینڈ کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ مؤرخہ 7 مئی 2006ء بروز اتوار ” بیت المقیت میں ہوئی۔حضور انور نے باری باری تمام قائدین سے ان کے کام کا جائزہ لیا اور ساتھ ساتھ ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا کہ انصار اللہ میں کوئی جنرل سیکرٹری نہیں ہوتا بلکہ قائد عمومی کہلاتا ہے۔اسی طرح عاملہ کے تمام عہدیداران قائدین کہلاتے ہیں، سیکرٹریان نہیں کہلاتے۔اسی طرح جماعتی نظام میں جو جماعتیں یا برانچز ہیں وہ ذیلی تنظیموں کے نظام میں مجالس کہلاتی ہیں۔حضور انور کے دریافت کرنے پر قائد عمومی نے بتایا کہ ہماری صرف ایک مجلس Auckland ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ آک لینڈ تو بہت بڑا شہر ہے۔کام اور رابطوں کو آسان کرنے کے لئے اس بڑے شہر کو انصار کی تعداد اور رہائش کے لحاظ سے دویا تین حصوں میں تقسیم کر کے مجالس بنائی جاسکتی ہیں اور پھر ہر مجلس کا زعیم ہو۔فرمایا اپنی مجلس عاملہ میں رکھ کر اس کا جائزہ لیں۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ مجلس عاملہ انصار اللہ کی کارگزاری کی ماہانہ رپورٹ مجھے براہ راست آنی چاہئے اور با قاعدگی سے بھجوایا کریں۔قائد مال سے حضور انور نے انصار اللہ کے بجٹ اور فی کس چندہ کے معیار کا جائزہ لیا اور فرمایا جو انصار Job کرتے ہیں ان سے باقاعدہ Percentage پر چندہ لیں اور جو انصار فارغ ہیں کوئی کام نہیں کرتے وہ جو بھی دیں ان سے لے لیں۔حضور انور نے چندہ اجتماع کا بھی جائزہ لیا اور اخراجات کے بارہ میں دریافت فرمایا۔قائد تبلیغ سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ تبلیغ کے لئے کیا پلان بنایا ہے۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ سکیم بنا کر مجلس عاملہ میں ڈسکس کرنی چاہئے تھی۔سکیم بنا ئیں، عاملہ میں رکھیں اور پھر اس پر عمل کریں۔حضور انور نے فرمایا حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے جو کام نہ کر سکیں۔تربیت نہ کرنے کی وجہ سے سستیاں پیدا ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے کمیاں پیدا ہوئی ہیں۔اگر تر بیت کی ہوتی اور فیملیوں کو سنبھالا ہوتا تو فیملیاں نہ بگڑ تھیں۔کوئی سنی سے بیاہی ہوئی ہے تو کسی کا رشتہ لاہوریوں