سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 133
133 سبیل الرشاد جلد چہارم بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہدیداران کی مستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔اگر تو ایسی صورت ہے تو ہر نمائندہ شوریٰ اپنے علاقے میں ذمہ دار ہے کہ اس پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرے اپنے عہد یداران کو توجہ دلائے ، جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے معاون کی حیثیت سے کام کرے۔ایک کافی بڑی تعداد عہدیداران کی نمائندہ شوریٰ بھی ہوتی ہے۔وہ اگر کسی فیصلے پر عمل ہوتا نہیں دیکھتے تو اپنی عاملہ میں اس معاملے کو پیش کر کے اس پر توجہ دلائیں۔نمائندگان شوریٰ چاہے وہ انتظامی عہدیدار ہیں یا عہدیدار نہیں ہیں اگر اس سوچ کے ساتھ کئے گئے فیصلوں کی نگرانی نہیں کرتے اور وقتا فوقتا مجلس عاملہ میں نتائج کے حاصل ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ نہیں لیتے تو ایسے نمائندگان اپنا حق امانت ادا نہیں کر رہے ہوتے۔اور اگر یہاں اس دنیا میں یا نظام جماعت کے سامنے، خلیفہ وقت کے سامنے اگر بہانے بنا کر بچ بھی جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ضرور پوچھے جائیں گے جو اپنی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے۔پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر با وجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں دیتے اور اپنے دوسرے پروگراموں کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور شوریٰ کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوریٰ کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کر نے والے نہیں ہیں، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے، کسی رنجش کی بناپر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، یاتحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان نمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات یاستی دیکھی تو فورا اطلاع کی جاتی۔اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔جماعت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کا یہ ایک مسلسل عمل ہے۔بعض لوگ اس خوف سے کہ ہم پر ذمہ داری نہ آ پڑے ذمہ داری سے بچنے کے لئے خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔تو اگر اپنا جائزہ لینے کی ، اپنا محاسبہ کر نے کی ہر عہد یدار کو ہر نمائندہ شوری کو عادت ہوگی اور یہ خیال ہوگا کہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنا گیا ہے اور پھر تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے مشورہ دینے کے بعد میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ میں یہ جائزہ لیتا رہوں کہ کس حد تک ان فیصلوں پر عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے کاموں میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہوگی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک مسلسل عمل ہے کام کرنے کا اور جائزے لیتے رہنے کا تبھی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔اور جماعتوں میں ایک واضح بیداری پیدا ہوگی اور نظر آ رہی ہوگی۔