سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 132

132 سبیل الرشاد جلد چہارم اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا جماعت کو اپنے نمائندے ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جوان کے نزدیک ایک تو سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں۔ہر میدان میں ہر ایک ماہر نہیں ہوتا، کوئی کسی معاملے میں زیادہ صائب رائے رکھنے والا ہوتا ہے یا مشورہ دے سکتا ہے، کوئی کسی معاملے میں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ عبادت گزار ہونا چاہئے اور حقیقی عبادت گزار ہمیشہ تقویٰ پر قدم مارنے والا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرے۔اور جہاں قرآن اور سنت کے مطابق واضح ہدایات نہ ملتی ہوں وہاں وہ اپنی سمجھ اور علم کو خدا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جب نمائندگان کو افراد جماعت اس حسن ظنی کے ساتھ منتخب کرتے ہیں تو جو نمائندگان شوری ہیں ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کریں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ جماعت کے افراد نے آپ پر حسن ظن رکھتے ہوئے قرآن کریم کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے آپ کو منتخب کیا ہے کہ تُؤدُّوا الْامَنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:59) که امانتیں ان کے اہل کے سپر د کرو۔خدا کرے کہ اکثریت نمائندگان جو وہاں شوریٰ میں آئے ہوئے ہیں ان کا انتخاب اسی سوچ کے ساتھ ہوا ہو اور کسی خویش پروری یا ذاتی پسند کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔لیکن اگر بالفرض بعض ایسے نمائندگان بھی آگئے ہیں جو ذاتی تعلق کی وجہ سے منتخب ہوئے ہیں تو میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے نمائندگان کو سمجھ بوجھ کے ساتھ تقویٰ پر چلتے ہوئے مشورے دینے والا بنائے اور کبھی مجھے ایسے مشیر نہ ملیں جو دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتے ہوئے مشورے دینے والے ہوں۔تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ اگر بعض نمائندگان اس معیار کو مدنظر رکھے بغیر بھی چنے گئے ہیں وہ بھی اب میری یہ بات سن کر استغفار کرتے ہوئے اپنے آپ کو تقویٰ پر چلاتے ہوئے اس امانت کی ادائیگی کا اہل بنانے کی کوشش کریں۔یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے اس پر چلتے ہوئے اگر آپ عمل کریں گے تو اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچارہے ہوں گے۔پس ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک امانت ہے جس کی ادائیگی کا آپ کو حق ادا کرنا ہے۔اس نمائندگی کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں کہ تین دن کے لئے ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں کچھ باتیں سن لیں کچھ دوستوں سے مل لئے اور بس، صرف اتنا کام نہیں ہے، ان کا بڑا وسیع کام ہے۔پھر نمائندگان یہ بھی یاد رکھیں کہ جب مجلس شوری کسی رائے پر پہنچ جاتی ہے اور خلیفہ وقت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کو جماعتوں میں عملدرآمد کرنے کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔تو یہ نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جو طریق وضع کر کے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔یا