سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 122

122 سبیل الرشاد جلد چہارم قائد ذہانت و صحت جسمانی سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ انصار کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔کتنے انصار سیر کرتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ گھر سے مسجد وغیرہ آتے ہیں تو اس کو سیر نہیں کہتے۔چار پانچ میل کی سیر، سیر ہوتی ہے۔فرمایا: جماعتوں کو جو سرکلر کرتے ہیں تو پھر رپورٹ بھی منگوایا کریں۔حضور نے فرمایا کہ اپنی نیشنل عاملہ کی سیر کا جائزہ بھی لیا کریں۔قائد مال سے حضور انور نے انصار کے چندہ مجلس، ان کے بجٹ اور چندہ کے معیار کا جائزہ لیا۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ آپ کی جو نئی مجالس قائم ہوئی ہیں ان کو چندہ کے نظام میں شامل کریں اور با قاعدہ اپنے نظام کا حصہ بنائیں۔خواہ ٹوکن کے طور پر چندہ لیں۔ایک روپیہ یا آٹھ آنے دیں لیکن ہر ایک دے۔آخر پر حضور انور نے فرمایا کہ صدر انصار اللہ کو دور کے صوبوں پر نظر رکھنی چاہئے اور دورہ پر جانا چاہئے۔حضور انور نے فرمایا: صوبوں کے ریجن کی سطح پر بھی اجتماع منعقد کریں جو صوبے دور ہیں جہاں انصار کی تعداد ایک صد پچاس سے زائد ہو وہاں اجتماع کیا کریں۔ان لوگوں کو آر گنائز کریں اور ان کو ہی آرگنائزر بنائیں۔تربیت کے لحاظ سے نمازوں کی پابندی ہو۔قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ پیدا ہو۔مالی قربانی کی اہمیت انہیں بتا ئیں۔اخراجات محتاط طریقے سے کرنے ہیں۔ان میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ ایک ایک پیسے کی حفاظت کرنی ہے اور ممکنہ حد تک تک بچت کرنی ہے۔یہ احساس ان میں پیدا ہونا چاہئے۔الفضل انٹر نیشنل 3 مارچ 2006ء) جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو نظام جماعت کی اہمیت اور اس کی اطاعت کے بارے پر معارف وزریں نصائح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 9 مارچ2006 کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جماعت احمدیہ میں خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت پر جو اس قدر زور دیا جاتا ہے یہ اس لئے ہے کہ جماعتی نظام کو چلانے کے لئے یک رنگی پیدا ہونی ضروری ہے اور اس زمانے کے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہے کہ مسیح موعود کے آنے کے بعد جو خلافت قائم ہوئی ہے وہ علی منهاج النبوۃ ہونی ہے اور وہ دائی خلافت ہے اور جس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔پھر آپ نے فرمایا کہ: " خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں۔ایسے