سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 121

121 سبیل الرشاد جلد چہارم حضور نے دریافت فرمایا کہ نئی مجالس میں کتنے ایسے انصار ہیں جو آپ کی کوششوں کے بعد فعال ہوئے ہیں اور آپ کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے فرمایا: ایک سال میں ان کا علیحدہ اجتماع کریں اور انہیں بتائیں کہ اب آپ کو اتنے سال ہو گئے ہیں اب آپ باقاعدہ جماعت کا حصہ بن جائیں۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ نئے آنے والوں کو سنبھالیں اور ایک سال کے اندر اندر ان کو نظام کا حصہ بنائیں۔فرمایا کہ جو نئے احمدی ہیں ان کے اندرا گر تبدیلیاں پیدا ہوئیں تو نظر آنی چاہئیں۔ان تبدیلیوں کو دیکھ کر ان کے عزیز وا وقارب واپس آئیں۔ان کو قریب لائیں۔فرمایا: جو نئے رابطے قائم ہوئے ہیں ان کا کیا ریسپانس(Response) ہے۔فرمایا: ان لوگوں سے رابطہ رکھیں اور ان کو احساس ہو کہ ہم سے رابطہ رکھا جارہا ہے۔ہم سے تعلق ہے۔ہم کو پوچھا جا رہا ہے۔قائد تبلیغ کوحضور انور نے اپنے تبلیغی پروگراموں کو فعال بنانے کی ہدایت فرمائی ہے۔اور فرمایا کہ انصار کو عادت ڈالیں کہ وہ اپنے ذاتی رابطے قائم کریں۔اور تبلیغ کریں اور جو ٹا رگٹ آپ نے مجالس کو دیا ہے اس کا Follow Up کریں۔قائدتحریک جدید سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ کتنے انصار تحریک جدید کے چندہ کے نظام میں شامل ہیں۔قائد تعلیم القرآن سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ کتنے فیصد انصار ہیں جو قرآن کریم پڑھ سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ اس بارہ میں کیا پروگرام بنایا ہے۔فرمایا پروگرام بنا کر مجالس کو بھجوائیں اور اس پر عمل کروا ئیں اور مجالس سے پوچھیں کہ کتنے انصار نے کتنی تعداد میں پڑھنا شروع کر دیا ہے۔قائد تربیت نے بتایا کہ نئے آنے والوں میں سے جو تعداد اب تربیتی پروگراموں میں شامل نہیں ہے ان میں سے دس فیصد کو ٹارگٹ بنایا جاتا ہے۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ پہلے تجنید کا جائزہ لیں اور سابقہ تجنید پر بنیاد نہ رکھیں۔بلکہ مجالس کا خود جائزہ لیں اور پھر معین رپورٹ بنا کر بھجوائیں۔زعیم اعلیٰ قادیان سے حضور انور نے قادیان کے انصار کی تجنید اور ان کے پروگراموں کے بارہ میں دریافت فرمایا۔آڈیٹر سے حضور انور نے دریافت فرمایا: کیا آپ باقاعدہ آڈٹ کرتے ہیں رسیدیں ، بل وغیرہ چیک کرتے ہیں۔دستخط دیکھتے ہیں کہ صدر کی منظوری سے خرچ ہوتا ہے،اخراجات بجٹ کے اندر ہوتے ہیں۔ایک مد سے دوسری مد میں تبدیلی قواعد کے مطابق ہے۔قائد اشاعت سے حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا اشاعت کمیٹی بنائی ہے، سہ ماہی رسالہ کی سرکولیشن کے بارہ میں بھی حضور انور نے دریافت فرمایا۔