سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 105

سبیل الرشاد جلد چہارم 105 کہ آپ سب اس اجتماع سے بھر پور فائدہ اٹھانے والے ہوں اور علم و عرفان اور روحانیت سے معمور ہو کر یہاں سے بخیریت اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔آمین مجھے یہ کہا گیا ہے کہ اس موقع پر آپ کو کوئی پیغام بھجواؤں۔میرا پیغام تو یہی ہے جس پر میں شروع دن سے زور دیتا چلا آیا ہوں کہ ہمارے بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی دعا ہی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔دعا ہی ہمارا ہتھیار ہے اس کے سوا اور کوئی ہتھیار ہمارے پاس نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو مکہ کی گلیوں میں خدائے تعالیٰ کے آگے رورو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت کی دعاؤں کا اثر تھا ورنہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تلوار میں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئیں تھیں۔" پھر آپ فرماتے ہیں:۔یہ میری نصیحت جس کو ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں قرآن شریف کے 30 پارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جاویں اور اس پر عمل درآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے دعا کو مضبوطی سے پکڑ لو میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالی ساری مشکلات کو آسان کر دے گا" انبھی کچھ دنوں تک رمضان بھی شروع ہونے والا ہے۔اس مہینہ کا بھی دعاؤں کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔پھر آپ تمام انصار پرانے بھی اور نو مبائعین بھی دعاؤں پر زور دیں۔دعاؤں سے اپنے مولیٰ کو راضی کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرماتے ہیں۔میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔دیکھو عمر گزری جارہی ہے۔غفلت کو چھوڑ دو اور تضرع اختیار کروا کیلے ہو ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے " اللہ تعالیٰ آپ سب کو دعا کا حقیقی عرفان عطا فرمائے۔آمین والسلام خاکسار ( دستخط) مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ہفت روزہ بدر قادیان 27 ستمبر 2005ء)