سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 100

100 سبیل الرشاد جلد چہارم تنظیموں کا بھی مقرر شدہ ہے۔اس کو بھی باقاعدہ ادا کرو۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجلس انصار اللہ کو فرمایا کہ آپ کو چاہئے کہ 2008 ء تک پانچ مساجد بنا کر دیں۔چندوں کا مسئلہ نہیں ہے، جرات پیدا کریں، حوصلہ پیدا کریں ، خدا تعالیٰ خود حالات پیدا کر دے گا۔(الفضل انٹر نیشنل اکتوبر 2005ء) عہد یداران اپنے عہدہ جو ایک امانت ہے کی حفاظت کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 9 ستمبر 2005ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔یہ ایمان کی نرم ٹہنیاں بھی اس وقت مضبوط ہوں گی جب اپنے نفس پر کسی برائی کو غالب نہیں آنے دو گے۔اور جب یہ چیز حاصل کر لو گے تو ایمان میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی اور پھرا گلا قدم یہ ہے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے تمہارے جتنے بھی عہد ہیں ان کی حفاظت کرو۔جتنی امانتیں ہیں ان کی حفاظت کرو۔ہر احمدی کا بہت بڑا عہد اس زمانے کے امام کے ساتھ ہے، ان کو مان کر ہے۔جو عہد بیعت آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہوا ہے، ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کیا وہ ان دس شرائط بیعت کی پابندی کر رہا ہے؟ ہر احمدی خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہے کہ اے خدا ! میں تیری تعلیم کو بھلا بیٹھا تھا لیکن اب مسیح موعود کے ہاتھ پر عہد کرتا ہوں کہ میرے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما آئندہ انشاء اللہ میں اس عہد پر قائم رہوں گا۔پھر عہد یداروں کے عہد ہیں۔ان کے سپر دامانتیں ہیں۔وہ جائزے لیں کہ کہاں تک وہ اپنے عہد اور اپنی امانتیں پوری طرح ادا کر رہے ہیں۔ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔جائزہ لیں کہ اپنے کام، اپنے فرائض کا حق ادا نہ کر کے وہ کہیں گناہگار تو نہیں ہورہے۔وہ اپنے ایمانوں میں ترقی کرنے کی بجائے ، ایمانی پودے کی حفاظت اور آبیاری کی بجائے اس کو سکھا تو نہیں رہے۔کیونکہ ایمان کی مضبوطی کے لئے ہر پہلو پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس لئے جائزہ لیں کہ کوئی پہلو ایسا تو نہیں رہ گیا جس سے میرا ایمان وہیں رک گیا ہو۔مجھے تو حکم ہے کہ تم نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے۔جہاں نیکیوں میں ترقی رکی وہاں ایمان کی ترقی بھی کر جائے گی۔غرض یہ عہد اور امانتیں اس قدر ہیں کہ جس کی انتہا نہیں ہے۔ایک عہد سے دوسرا عہد سامنے آتا چلا جاتا ہے۔اور ایک امانت کی ادائیگی کے بعد دوسری امانت کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔چاہے وہ ایک عام احمدی کی طرف سے ہو، عہدیداروں کی طرف سے ہو یا کسی ذمہ دار کی طرف سے ہو۔اور یہیں پر بس نہیں ہے۔بلکہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو تم نے ایمان کے درخت کو مضبوط کیا ہے اس پر بھی ابھی پھل نہیں لگے گا جس سے تم بھی فیض پاسکو اور دوسرے بھی فیض اٹھا ئیں۔اس کے لئے اور طاقتیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔غرض یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کو تا زندگی جاری رکھنا ہو گا۔اور جب ان نیکیوں میں اور ایمان کو مضبوط کرنے کی کوشش میں با قاعدگی آجائے گی پھر