سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 97

97 سبیل الرشاد جلد چہارم ہیں۔مثلاً دو باتیں ہیں ایک شدید محبت اور ایک شدید غصہ جس میں انتہا پائی جاتی ہو۔تو اصل میں جو شدید محبت ہے وہی شدید غصے کی وجہ بنتی ہے۔جب غصہ آتا ہے تو وہ یا تو نفس کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے یا اپنے کسی قریبی عزیز کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے۔بعض دفعہ میاں بیوی کی جوگھر یلولڑائیاں یا خاندانی لڑائیاں یا کاروباری لڑائیاں ہوتی ہیں ان میں انسان مغلوب الغضب ہو کر ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے۔تو جب یہ مغلوب الغضب ہوتا ہے تو اس وقت اپنے نفس سے ہی پیار کر رہا ہوتا ہے۔اس کو اپنے نفس کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہوتی اور اس کو پتہ نہیں لگ رہا ہوتا کہ کیا کہہ رہا ہے۔بالکل ہوش و حواس غائب ہوتے ہیں۔قضاء میں بعض معاملات آتے ہیں اگر فیصلہ مرضی کے مطابق نہ ہو، ایک فریق کے حق میں نہ ہو تو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ہوش و حواس میں نہیں رہتے۔صاف جواب ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔اور پھر جب تعزیر ہو جاتی ہے، سزامل جاتی ہے تو پھر معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے معافی مانگتے ہیں کہ غلطی ہوگئی ، ہمیں معاف کر دیں اور پھر فیصلہ پر بھی عملدرآمد کر دیں گے۔تو یہ تو وہی حساب ہو جاتا ہے ان کا کہ سو جو تیاں بھی کھا لیں اور سو پیاز بھی کھالئے۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضے میں لیا ہوتا ہے۔اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اطاعت کرنی ہے۔ویسے اگر اپنے او پر کوئی بات نہ ہو، اپنا مسئلہ نہ ہو تو دعوے یہ ہوتے ہیں کہ نظام جماعت پر ، خلیفہ وقت پر ہماری تو جان بھی قربان ہے۔لیکن اپنے خلاف فیصلہ ہو جائے تو پھر وہ نہیں مانتے۔اور پھر نہ صرف مانتے نہیں بلکہ جماعت کے خلاف اعتراض بھی کرنے شروع ہو جاتے ہیں۔تو ایسے جو لوگ ہیں وہ اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کے دل آہستہ آہستہ مستقل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔جھوٹی اناؤں کی خاطر، چند ایکڑ زمین کی خاطر وہ اپنا دین بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے عزیز جو مجلس لگاتے ہیں یا ان کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں یا بعض دفعہ پاس بٹھا کر کھانا کھلا لیتے ہیں کہ جی مجبوری ہوگئی تھی۔بعض دفعہ یہ بہانے بن رہے ہوتے ہیں کہ فلاں عزیز کی وفات پر وہ آیا تھا اس لئے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔تو ایسے لوگ بھی اس مجرم کی طرح بن رہے ہوتے ہیں۔نظام جماعت کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔خلیفہ وقت کے فیصلوں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔جماعت کی تعزیر جو ایک معاشرتی دباؤ کے لئے دی جاتی ہے، اس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے چاہے ایک دفعہ ہی سہی اگر کسی ایسے سزایافتہ شخص کے ساتھ بیٹھتے ہیں جس کی تعزیر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ سزا تو ہے لیکن کوئی حرج نہیں، ہمارے تمہارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے تعلقات قائم ہیں۔سوائے بیوی بچوں یا ماں باپ کے۔ان کے تعلقات بھی اس لئے ہوں کہ سزا یافتہ کو سمجھانا ہے۔اور قریبی ہونے کی وجہ سے ان میں درد زیادہ ہوتا ہے اس لئے ایک درد سے سمجھانا ہے۔ان کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی جماعتی تعزیر یافتہ