سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 96
سبیل الرشاد جلد چہارم 96 چاہئے اور وہیں بات کرنی چاہئے جہاں سے اصلاح کا امکان ہو۔اگر خود اصلاح نہیں کر سکتے تو جس طرح میں نے کہا ہے پھر عہدیداروں کو بتا ئیں، مجھے بتائیں۔اور پھر یہ عہد یدار رحم اور محبت کے جذبات کے ساتھ اس شخص کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو مومنوں کو ان کے آپس کے رحم محبت و شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے۔اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔( بخاری کتاب الادب۔باب رحمۃ الناس والبھائم ) پس معاشرے کو تکلیف سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو اس بیماری سے بچانے کے لیے پاک دل ہو کر اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے ، دعا کرنی چاہئے۔یہ رویے اگر ہوں گے تو یقیناً یہ ایسے رویے ہیں جو معاشرے کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے والے ہوں گے۔پھر آپس کے تفرقہ کو دور کرنے کے لیے، آپس میں محبت کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت خوبصورت اصل ہمیں بتا دیا۔روایت میں آتا ہے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے اور یہ کہ وہ راستے میں ایک دوسرے سے ملیں تو منہ پھیر لیں۔ان دونوں میں سے بہترین وہ الادب المفرد للبخاری، باب من بدا بالسلام ) ہے جو سلام میں پہل کرے۔پس آپس کی رنجشوں کو لمبا نہیں کرنا چاہئے اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور بڑھتے بڑھتے جماعتی وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔غیر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔کئی خط آتے ہیں لوگ لکھتے ہیں کہ فلاں شخص کے ساتھ ناراضگی تھی ، آپ کے کہنے پر جب میں اس کے پاس گیا اور اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگی تو اس نے سختی سے مجھے جھڑک دیا۔وہ بات کرنے کا روادار نہیں ، سلام کرنے کا روادار نہیں۔یہاں جرمنی میں کئی ایسے واقعات ہیں" خطبات مسرور جلد 3 صفحه 520-523) عہد یداران کو تعزیر یافتہ افراد سے تعلق رکھنے میں احتیاط کرنی چاہئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2 ستمبر 2005ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔بعض معمولی باتیں ہوتی ہیں جو دلوں کو ٹیڑھا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں اور عموماً یہی چیزیں ہوتی