سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 84
سبیل الرشاد جلد چہارم 84 مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے، اس میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔اس کے اعصاب زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔اگر چھوٹی موٹی غلطیاں، کوتاہیاں ہو بھی جاتی ہیں تو ان کو معاف کرنا چاہئے۔۔مخلوق سے ہمدردی اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث بنتی ہے۔۔۔۔۔۔پس آپس میں ایسی محبت پیدا کریں کہ دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں۔دوسرے کی ضروریات کو اس لئے پورا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا باعث بنے گی اور آپ کی ضرورتیں بھی خدا تعالیٰ پوری فرماتا رہے گا۔دوسروں کی تکلیف دور کرنے سے اللہ تعالیٰ آپ کی بھی تکلیفیں دور فرمائے گا۔اور سب سے بڑی بات جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ قیامت کے دن ستاری ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس زمرے میں شامل فرمائے جن سے ہمیشہ ستاری اور مغفرت کا سلوک ہوتار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق آپ کی خواہش کے مطابق ایسی جماعت بنے جواللہ اور والی بنے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی بھی ہو اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والی بھی ہو آپس میں محبت اور اخوت کی اعلی مثالیں قائم کرنے والی بھی ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ: دو تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو“۔اطلاع منسلکہ آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351) پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور یہ ماحول تو یہاں میسر آ گیا ہے کہ ان تین دنوں میں دنیا داری سے ہٹ کر خالص اللہ کے ہوتے ہوئے اس کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے ، اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی محبت ،سب محبتوں پر غالب آ جائے۔اور یہ محبت اس وقت تک غالب نہیں ہو سکتی جب تک دنیا کی محبت ٹھنڈی نہ ہو جائے۔اگر نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اس طرح جلدی جلدی پڑھ رہے ہیں کہ دنیا کے کام کا حرج نہ ہو جائے تو یہ تو انقطاع نہیں ہے۔یہ تو دنیا سے تعلق توڑنے والی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ دنیاوی کاموں کو جائز قرار دیتا ہے بلکہ یہ بھی ناشکری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کام کے جو موقعے دیئے ہیں ان سے پورا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔لیکن اگر یہ کام، یہ کاروبار، یہ جائیدادیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں تو پھر ایسے کام بھی ، ایسی ملازمتیں بھی ، ایسے کاروبار بھی ایسی جائیدادیں بھی پھینک دینے کے لائق ہیں۔اگر ملازمتوں میں، کاروباروں میں خدا تعالیٰ کو بھلا کر دھو کے اور فراڈ کئے جار ہے ہیں تو ایسے کاروبار اور ایسی ملازمتوں پر لعنت ہے۔لیکن اگر یہی کام، یہی کاروبار، یہی جائیداد میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کا باعث بن رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا