سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 74

74 کیا گیا ہے اور نصیحت کا ایک خاص پہلو ہے جو ان کے پیش نظر تھا۔ان کو چونکہ سوچ بچار کی عادت ہے مختلف تربیتی مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں اس لئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے جماعتی نظام پر بہت غور کیا اور کرتا رہتا ہوں اور جتنا غور کیا میں حیرت میں ڈوبتا چلا گیا کہ حضرت مصلح موعود کواللہ تعالیٰ نے کیسا عظیم الشان اور کامل تربیتی نظام قائم کرنے کی توفیق بخشی ہے لیکن ایک پہلو ایسا ہے جس کے متعلق میرا ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہو سکا اور بار ہا خیالات میرے دل کو کریدتے رہے کہ یہ پہلو کیوں تشنہ ہے اور وہ ہے پیدائش سے لے کرسات سال کی عمر تک بچوں کو کسی نظام کے سپرد نہ کرنا۔وہ لکھتے ہیں کہ انسانی عمر کے جو مختلف ادوار ہیں نفسیاتی لحاظ سے سب سے اہم دور یہ ابتدائی دور ہے اس دور میں بچہ جو سیکھ جائے وہ سیکھ جاتا ہے اور پھر مزید سیکھنے کی اہلیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اگر اس دور میں کسی پہلو سے اس کی تعلیم میں تشنگی رہ جائے تو بسا اوقات بڑی عمر میں جا کر وہ قشنگی پوری ہو ہی نہیں سکتی اور وہ پہلو ہمیشہ کے لئے ایک خلا بن جاتا ہے جس طرح بعض دفعہ شیشہ ڈھالتے وقت اندر بلبلے رہ جاتے ہیں اس طرح انسانی دماغ میں بھی بعض علمی پہلوؤں سے بلبلے رہ جاتے ہیں اور یہ بات ان کی درست ہے۔بچوں کو چھوٹی عمر میں زبانیں سکھلائیں میں نے بھی جہاں تک مطالعہ کیا ہے بعض سائنسدان تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ چھوٹی عمر میں ہی اگر زبان سکھائی نہ جائے اور لمبا خلا مثلاً سات آٹھ سال تک مسلسل خلا چلا جائے تو اس کے بعد بچہ کوئی زبان سیکھ ہی نہیں سکتا۔یعنی پھر جتنا چاہیں آپ زور لگا ئیں جتنی چاہیں کوشش کر لیں وہ مستقل خلاء پیدا ہو جائے گا۔اسی طرح بعض علوم یا بعض ذوق ایسے ہیں جو بچپن میں پیدا نہ ہوں تو پھر آگے پیدا نہیں ہوتے۔تو ان کو یہ خیال آیا کہ کیوں ان کو کسی تنظیم کے سپردنہیں کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس عمر میں بچے ماں اور باپ کے سپرد ہیں اور اس پہلو سے قرآن کریم بھی روشنی ڈالتا ہے اور احادیث میں بھی کثرت سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ہاں ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ، بار بار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔چند لمحات کے بعد بچے کے کان میں اذان دینا اور دوسرے کان میں تکبیر کہنا یہ ایک بہت ہی عظیم الشان اور گہر احکم ہے اور یہ بتانے کے لئے ہے کہ بچے کی عمر کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جو تربیت سے خالی رہے اور کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق تم جوابدہ نہیں ہو گے۔عملاً جب ہم اذان دیتے ہیں تو بچہ تو اس اذان کے لئے جوابدہ نہیں ہے نہ اس تکبیر کے لئے جوابدہ ہے نہ ان باتوں کو سمجھ رہا ہے۔ماں باپ کو متوجہ کیا جارہا ہے جوابدہ تم نے پہلے دن سے دینی رنگ میں تربیت کرنی ہے۔اگر نہیں کرو گے تو تم جوابدہ ہو گے اس میں اور بھی بہت سی حکمتیں ہیں لیکن ایک بڑی اہم حکمت یہ ہے۔