سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 69

69 $1986 عہد یداران ، تقوی کے معیار کو بڑھا کر سلسلے کے اموال خرچ کریں (خطبہ جمعہ 4 اپریل 1986ء) " دوسرا حصہ ہے وہ لوگ جو اموال خرچ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یعنی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مختلف کارکن جو خدا کی راہ میں آنے والے اموال کو خرچ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ان میں واقف زندگی بھی ہیں اور غیر واقف زندگی بھی ہیں۔پاکستان میں کام کرنے والے بھی ہیں اور باہر کے ملکوں میں بھی۔ایسے ممالک میں بھی ہیں جو خدا کے فضل سے بہت خوش حال ہیں اور کم سے کم معیار پر بھی اگر وہاں واقفین رہیں تب بھی ان کی حالت پاکستان میں بسنے والے واقفین کے مقابل پر اعلیٰ سے اعلیٰ معیار سے بھی اونچی ہے اور ایسے ممالک میں بھی ہیں جہاں اتنی غربت ہے، اتنا معیار گرا ہوا ہے کہ بعض دفعہ ایک ہفتہ پہلے جب ہم ان کے وظائف میں اضافہ کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے بعد یہ اطلاع آتی ہے کہ اب اس مال کی قیمت یہاں آدھی رہ گئی ہے اور امر واقعہ ایسا ہو چکا ہے کہ چند دن کے اندر اندر جب وظائف میں اضافہ کیا گیا تو وہاں سے اطلاع ملی کہ اب تو یہاں روپے کی قیمت 113 رہ گئی ہے۔بہر حال مختلف حالات میں واقفین زندگی ہوں یا غیر واقفین زندگی خدا کی راہ میں اس قربانی کی توفیق بھی پا رہے ہیں اور کچھ بے احتیاطیاں بھی کر رہے ہیں۔جو بے احتیاطیاں کرنے والے ہیں ان کو میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بے احتیاطیاں رفتہ رفتہ بد دیانتیوں میں بدل جایا کرتی ہیں۔اس لئے اگر آپ بے احتیاطی سے بچیں گے اور شروع میں ہی تقویٰ کے معیار کو بڑھا کر سلسلے کے اموال خرچ کریں گے تو اس کا دہرا فائدہ پہنچے گا۔اول یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی نظر میں زیادہ مقبول ٹھہریں گے۔آپ کے ذاتی اموال میں بہت برکت ہوگی۔آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔آپ کی خوشیوں میں برکت بخشے گا، آپ کے ایمان اور خلوص میں برکت بخشے گا اور دوسرا یہ کہ جماعت احمدیہ کے مالی قربانی کے معیار کو آپ اونچا کرنے والے ہوں گے۔جماعت کا پیسہ خرچ کرنے والے اور دینے والے کے تقویٰ کا بڑا گہرا تعلق ہے امر واقعہ یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کے تقویٰ کا پیسہ دینے والے کے تقویٰ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔جہاں خرچ کرنے والوں کا تقویٰ اونچا ہو ، وہاں خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کا تقویٰ بھی خود بخود