سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 64

64 اور بغیر محسوس کئے کہ جو میں نے نماز پڑھی ہے اس کا ترجمہ میں نے محسوس کیا ہے کہ نہیں ، اس میں سے گزر جاتے ہیں اور پھر کچھ اور ہیں جن کو مہارت ہو جاتی ہے ساتھ ساتھ ترجمہ خود بخود جذب ہونے لگ جاتا ہے لیکن ان کی توجہ بکھر جاتی ہے۔نماز کے بعد بہت حصے خلا کے رہ جاتے ہیں جہاں توجہ اکھڑ گئی تھی۔تو یہ ساری باتیں جو کسل کی حالت ہے اور بہت سی باتیں ہیں، یہ نماز کی کوالٹی پر ، اس کی قسم پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔اس لئے اگر سو فیصدی بھی ایک جماعت نمازی ہو جائے اور پانچ وقت کی نمازی ہو جائے بلکہ تہجد بھی پڑھنا شروع کر دے تب بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے ظاہری نظر سے کہ نماز قائم ہوگئی ہے یا نہیں ہوئی کیونکہ اور بہت سے مراحل ہیں لیکن آغاز بہر حال ترجمہ سے ہوگا یعنی اس کے اندر مغز پیدا کرنے کے لئے ترجمہ پہلے سکھائیں گے تو پھر دیگر امور کی طرف متوجہ کر سکیں گے۔نماز بچوں کو سکھانے کے لئے ماں باپ کا ذاتی تعلق ضروری ہے ترجمہ سکھانے کے لئے باہر کی دنیاؤں میں اور بھی بہت سے ذرائع موجود ہیں مثلاً ویڈیو کیسٹس عام ہے آڈیو کیسٹس ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو ترجمہ سکھانے کے لئے ماں باپ کا ذاتی تعلق ضروری ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ویڈیوز کے اوپر آپ بنادیں اور ہم اپنے بچوں کو پکڑا دیں گے اور بے فکر ہو جائیں گے کہ ان کو نماز آنی شروع ہوگئی ہے۔یہ درست نہیں۔عبادت کا تعلق محبت سے ہے اور محض رسمی طور پر ترجمہ سکھانے کے نتیجہ میں عبادت آئے گی کسی کو نہیں۔وہ ماں باپ جن کا دل عبادت میں ہو جن کو نماز سے پیار ہو جب وہ ترجمہ سکھاتے ہیں بچے سے ذاتی تعلق رکھتے ہوئے بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ رہا ہوتا ہے، ان کے دل کی گرمی کو محسوس کر رہا ہوتا ہے ، ان کے جذبات سے اس کے اندر بھی ایک ہیجان پیدا ہورہا ہوتا ہے۔وہ اگر نماز سکھا ئیں تو ان کا نماز سکھانے کا انداز اور ہوگا۔چنانچہ بہت سے قادیان کے زمانے میں مجھے یاد ہے بہت سے نیک لوگ اس طرح ماؤں کی گود میں نیک بنے۔ان کو ماؤں نے بڑے پیار اور محبت سے نمازیں سکھائی ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کی یادیں ان کے دلوں میں ڈوب گئی ہیں اور جم گئی ہیں وہاں ان کے خون میں بہنے لگی ہیں، ایک فطرت ثانیہ بن چکی ہیں۔کجاوہ نمازیں جو اس طرح سیکھی گئی ہوں کجا وہ جو ویڈیو پر آرام سے بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور خیال شاید یہ آرہا تھا کہ یہ ختم ہو اور ہم اپنی دلچسپی کا فلاں پروگرام دیکھیں، فلاں ڈرامہ شروع کر دیں، فلاں کھیل دیکھنے لگ جائیں ، دونوں چیزوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس لئے محض فرضی باتوں کے اوپر اپنے آپ کو خوش نہ کریں۔ہر احمدی کو خود نماز کے معاملے میں کام کرنا پڑے گا محنت کرنی پڑے گی ، اپنے نفس کو شامل کرنا پڑے گا، اپنے سارے وجود کو اس میں داخل کرنا پڑے گا ، تب وہ نسلیں پیدا ہوں گی جو نمازی نسلیں ہوں گی خدا کی نظر میں۔