سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 52

52 $1984 انصار خطبہ کے دوران بغیر بولے صفیں پھلانگنے والوں کو روک دیں (خطبہ جمعہ 27 جنوری 1984ء) "خطبہ سے پہلے یہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی ایک صاحب صفوں کو پھلانگتے ہوئے آگے تک پہنچے جو ممنوع ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند فرمایا ہے۔سوائے اس کے کہ آگے جگہ خالی ہو اور بیچ میں سے بھی جگہیں خالی ہوں اور ان خالی جگہوں سے گزر کر انسان اگلی صف کو پورا کرے۔جو پیچھے آنے والوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ آگے آنے والوں کو تکلیف دیں اور ان کے کندھوں پر سے گزرتے ہوئے اور ٹھوکریں مارتے ہوئے آگے آئیں لیکن جو دوسرا پہلو ہے وہ اور بھی زیادہ قابل فکر ہے کہ منتظمین نے کوئی ایسا انتظام نہیں کیا ہوا کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو بیچ میں بیٹھے ہوئے خدام جن کو معلوم ہو کہ ہمارا یہ کام ہے یا انصار بغیر آواز کے بغیر بولے ان کو روک دیں اور یہ بہت اہم بات ہے۔ایک منظم جماعت کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہئے اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔" خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 49-50) مجلس انصار اللہ کے اجتماع پر حکومت کی طرف سے پابندی پر تبصرہ (خطبہ جمعہ 26اکتوبر 1984ء) یہ جمعہ اس سال کے اکتوبر کا آخری جمعہ ہے اور حسب روایت اس جمعہ میں جوا کتوبر کا آخری جمعہ ہوتا ہے عموماً تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے اس جمعہ میں نہ ہو سکے تو پھر نومبر کے پہلے جمعہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے۔قبل ازیں تو اس جمعہ کے ساتھ مجلس انصار اللہ کے اجتماع کا افتتاح بھی اکٹھا ہو جایا کرتا تھا لیکن امسال حکومت نے مجلس انصار اللہ کو تو اجتماع کی اجازت نہیں دی لیکن علما کو جو غیر احمدی علما ہیں ان کو ربوہ میں اکٹھے ہو کر تین دن ، دن رات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام اور بزرگان سلسلہ اور علما سلسلہ کو نہایت گندی گالیاں دینے کی اجازت دی کیونکہ ان کا یہ ایمان ہے حکومت کا کہ اس ملک میں انصاف ہونا چاہئے اور ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انصاف کیا جا رہا ہے اور جس طرح ایک احمدی کی حیثیت ہے اس ملک