سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 35
35 بے نمازی بھی ہوں گے تو یہ گھر ان کو نمازی بنادیں گے۔لیکن اس کے ساتھ ایک یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر وہ گھر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں، بے نمازی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان مہمانوں کی عادتیں بھی بگاڑ دیں اور ان کو بھی نمازوں سے غافل کر دیں۔اس طرح ان گھروں کی حالتِ بے نمازی بھی زمین کے کناروں تک پہنچ سکتی ہے۔یعنی ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں حاصل کر سکتے ہیں تو دوسری طرف ان رحمتوں سے محرومی کی بھی کوئی حد نہیں رہتی۔پس خصوصیت کے ساتھ اپنے گھروں کو اس طرح بھی سجائیں کہ وہ عبادت اور ذکر الہی سے معمور ہو جائیں۔جب مہمان آتے ہیں تو ان کے لئے گھروں کو سجایا جاتا اور انہیں زینت بخشی جاتی ہے۔میں نے ایک خطبہ جمعہ میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ربوہ کو ایک غریب دلہن کی طرح سجانا چاہئے لیکن مومن کی اصل سجاوٹ تو تقویٰ کی سجاوٹ ہے، نماز کی سجاوٹ ہے۔خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف:32) میں یہی اشارہ کیا گیا ہے کہ اصل زینت تو وہ ہے جو نمازوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔نمازیں سنوارو گے تو مسجدیں بھی زینت اختیار کر جائیں گی۔لیکن اگر بغیر سنوارے کے نمازیں پڑھو گے تو تمہاری مسجد میں بھی ویران ہو جائیں گی۔پس اپنے گھروں کو زینت بخشومہمانوں کے استقبال کی تیاری کرو۔اللہ کے ذکر کو گھروں میں بھی کثرت سے بلند کرو اور بار بار بچوں کو بھی اس کی تلقین کرو تا کہ ہر گھر خدا کے ذکر کا گہوارہ بن جائے اور ہر مہمان جو آپ کے ہاں ٹھہرے ، وہ اگر کمزور بھی ہے تو آپ کی مثال سے طاقت پکڑے اور ذکر الہی کی طاقت لے کر یہاں سے واپس لوٹے۔ربوہ میں نماز با جماعت کی مساعی کے لئے لائحہ عمل جہاں تک میرا نظری جائزہ ہے میں سمجھتا ہوں ربوہ کی پوری آبادی جمعہ میں بھی حاضر نہیں ہوتی۔ربوہ کی آبادی ہمیں معلوم ہے اور جتنے فیصد لوگوں کو مسجد میں پہنچنا چاہئے اتنے یہاں نظر نہیں آتے۔چونکہ ہمارا موازنہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا، دوسری سوسائٹیوں سے نہیں ہے بلکہ ہمارے معیار بہت بلند ہیں۔ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ، بہت اہم ، بہت گہری اور بہت بھاری ہیں۔اس لئے ان کی ادائیگی کے لئے بھی ہمیں اسی قسم کی تیاریاں کرنی پڑیں گی اور نماز کے قیام کے بغیر ہم دنیا کی تربیت کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔اس لئے جمعہ کی نماز میں بھی حاضری کو بڑھانا چاہئے اور اس کے لئے بھی گھروں میں تلقین کرنی پڑیگی۔زعمائے انصار اللہ کا فرض صدران محلہ جات اور زعماء انصار اللہ کا فرض ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ صرف مسجدوں میں نماز کی تلقین اور یاد دہانی کا پروگرام بنائیں، اگر کوئی ایسے گھر ہیں جو مسجد میں نہیں آتے تو گھروں میں جائیں اور گھر