سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 464

464 وو ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ شیطان کے قدموں کی پیروی کریں۔پس اگر چہ یہ ایک زائد بات معلوم ہوتی ہے۔اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو“ مگر یہ حقیقت میں اس کا نتیجہ ہے کہ ایسا کرو گے تو تمہیں یہ تو فیق نصیب ہوگی کہ جو خدا کے محبت کے دائرے میں بیٹھا ہے اس کے لئے ممکن ہی کیسے ہے کہ وہ باہر نکل کر شیطان کے قدموں کی پیروی کرے۔یہ دو متضاد باتیں ہیں بیک وقت ہو ہی نہیں سکتیں۔ماں کی طرح بچوں کو سنبھالیں اور شیطان کے متعلق فرمایا إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبین" جہاں بھی تم نے اسے موقعہ دیا کہ تمہیں پھسلائے جان لو کہ وہ ضرور تمہیں ہلاکت میں مبتلا کرے گا کیونکہ وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔تو اس واضح تنبیہ کے بعد کسی مومن کے لئے یہ امکان ہی باقی نہیں رہتا کہ وہ خدا کی محبت کے دائرے سے باہر کوئی سانس لے کیونکہ وہ جانتا ہے جب شیطان کو موقع ملا وہ اسے اچک لے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے مرغی کے پروں کے نیچے اس کے چوزے آجایا کرتے ہیں۔وہ تو نکل کے باہر بھی جاتے ہیں اور ادھر ادھر پھرتے ہیں لیکن اللہ کی پناہ میں جو ایک دفعہ آ جائے ، اس کی رحمت کے پروں کے نیچے آجائے وہ نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔لیکن مرغی کے چوزوں کو بعض انسانوں سے زیادہ سمجھ ہے۔جب خطرہ درپیش ہو، کسی چیل کا سایہ دیکھیں جو سر پر منڈلا رہی ہو تو وہ دوڑ کر اپنی ماں کے پروں کے نیچے آجاتے ہیں اور وہیں اپنا امن دیکھتے ہیں۔اور یہ حقیقت ہے کہ چیل باوجود اس کے کہ بہت خونخوار ہے اور چوزے پر ذرہ بھی رحم نہیں کرتی اور جانتی ہے۔کہ مرغی کی اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں مگر پھر بھی اسے یہ جرات نہیں ہوتی کہ اس کے پروں کے اندر سے اس کا بچہ نوچ لے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ فطرت بخشی ہے کہ وقت پر جب اسے اپنے عزیزوں کے نقصان کا اپنے پیاروں کے نقصان کا خطرہ ہو تو انسان بھر جاتا ہے اور سب سے زیادہ ماں بھرتی ہے اور مختلف Naturalist جن کو کہتے ہیں یعنی جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے، بتاتے ہیں کہ بظاہر کمزور نظر آنے والی مائیں بھی ایسے موقعوں پر ایسا بھرتی ہیں مثلاً شیرنی کہ اس کے مقابل پر بہت بڑے بڑے شیر بھی ڈر کے بھاگ جایا کرتے ہیں۔تو سوچیں کہ ایک مرغی کے بچے کو اگر یہ امن نصیب ہو تو وہ جو اللہ کے پیارے ہیں ان کو کیسا امن نصیب نہیں ہوگا۔مگر وہ چوزہ جو باہر رہ جائے، جو سمجھے کہ کوئی ایسی بات نہیں ، وہ ضرور اچکا جاتا ہے۔، چیل اس پر جھپٹتی ہے اور اس کو اڑا لے جاتی ہے۔تو آپ لوگ مرغی کے چوزوں سے تو زیادہ عقل دکھا ئیں۔اول تو خدا کی پناہ میں آکر شیطان کے ہر خطرے سے آپ بچ سکتے ہیں اور بچیں گے اور لازماً بچیں گے لیکن اگر یہ بے پرواہی ہوئی ، اس دائرے سے باہر نکل کر اپنی قسمت آزمائیں گے تو جان لیں کہ یقینا آپ کی قسمت ہلاک شدہ لوگوں کی قسمت ہے۔جو نہی