سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 463
463 بھی خدا کی نظر پڑے محبت کی نظر پڑے۔اس کی خاطر جب اپنی جان بیچ ہی ڈالی تو رہا کیا باقی ، اختیار تو کوئی نہیں اور اگر یہ نہیں تو پھر آپ نے اپنی زندگی کا مقصد پورا نہ کیا۔پس اگر چہ اس آیت کا اطلاق تمام مومنوں پر جو شعور رکھتے ہیں کسی بھی عمر کے ہوں ان پر ہوتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انصار اللہ پر اس کا اطلاق بہت زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔صحابہ رسول ہر وقت انحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے کا شوق رکھتے تھے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ تھے جو یہی کیا کرتے تھے کہ لمحہ لحہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا انتظار رہتا تھا کہ اب کوئی ایسی بات کہیں جو ہمارے لئے از دیا دایمان کا موجب بنے یا اس آیت کے اطلاق کے طور پر میں یہ کہوں گا کہ شاید ہماری کسی ادا پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پیار کی نگاہیں ہم پر پڑیں اور جیسا کہ میں نے احادیث کا مطالعہ کیا ہے بکثرت ایسے صحابہ تھے جو خصوصیت کے ساتھ رسول اللہ کی محبت کی نظر کی تلاش میں آپ کے سامنے بیٹھا کرتے تھے شاید کوئی ایسی ادا ہو جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پیار سے دیکھ لیں۔تو وہ لوگ جو خدا کی خاطر ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں یا خدا کے پیار کی نظروں کے لئے ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں ان پر پھر اللہ تعالیٰ پیار کی نظریں ڈالا بھی کرتا ہے۔یہ خوشخبری ہے جو اس کلام میں مضمر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی جانتے تھے کہ کون کون آپ کی پیار کی نظروں کا خواہاں ہے اللہ تو بہت زیادہ جانتا ہے۔پس اگر اپنی باقی زندگی ایسے حال میں صرف کریں کہ آپ کو یہ امیدر ہے، یہ انتظار رہے کہ کبھی تو کوئی ایسی بات ہم سے ظہور ہو کہ خدا کے پیار کی ہم پر نظر پڑے۔تو یاد رکھیں کہ یہ بعید نہیں ہے۔جس کی اپنے رب سے یہ توقع ہے اللہ ان توقعات کو پورا کرنا جانتا ہے۔توفیق بھی وہی دیا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے حقیقت میں سلم یعنی مقام امن، وہ فرمانبرداری کا دائرہ جس کو سلم کا گیا ہے جس کو دوسرے معنوں میں مقام امن ، مقام محبت سرائے ما بیان کرتا ہوں۔پس يَأَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْم كَافةً پس اے لوگو جو ایمان لائے ہو اس مسلم یعنی خدا کی محبت کے امن کے دائرے میں تمام تر داخل ہو جاؤ۔گافہ کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ ہر داخل ہونے والا یہ دیکھے کہ اس کا کوئی دامن کا حصہ باہر تو نہیں رہا وہ پورے کا پورا خدا کی محبت کے امن کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے کہ نہیں کیونکہ ایک ذرہ بھی اس کا اس دائرے سے باہر رہا تو وہ خطرے میں ہے۔دوسرے گاف سے مراد یہ ہے کہ تمام مومن چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں وہ سارے کے سارے داخل ہوں تا کہ مومنوں کی ایک جماعت خدا تعالیٰ کی محبت کی طالب بن کر اپنی زندگی بسر کرے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطن ایسے لوگ جو اس محفوظ دائرے میں آجائیں گے ان کے لئے